**کراچی (HRNW)** – سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں اہم انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ حکومتِ سندھ کے سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ (SGA&CD) نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عہدے سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر وسیم شمشاد علی (PAS، گریڈ 21) کو ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عہدے سے فوری طور پر سبکدوش کر دیا گیا ہے تاکہ وہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں منعقد ہونے والے 125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس (NMC) میں شرکت کر سکیں۔ یہ کورس 6 جولائی 2026 سے 6 نومبر 2026 تک جاری رہے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر وسیم شمشاد علی کورس کے دوران اپنی تنخواہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں موجود گریڈ 20 کی خالی او ایس ڈی (Officer on Special Duty) آسامی سے وصول کریں گے۔
دوسری جانب سید فرحان حسین شاہ (PAS، گریڈ 20)، جو اس وقت محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کو ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سید فرحان حسین شاہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آئندہ احکامات تک ڈی جی ایس بی سی اے کے فرائض بھی انجام دیں گے۔
یہ انتظامی فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی منظوری سے 21 جولائی 2026 کو جاری کیا گیا۔
انسانی حقوق اور شہری حقوق کے تناظر میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے اداروں کی کارکردگی شہریوں کے محفوظ رہائشی ماحول، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، عمارتوں کے حفاظتی معیار اور شہری منصوبہ بندی سے براہِ راست منسلک ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اداروں میں شفاف، مؤثر اور جوابدہ انتظامی نظام عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
HRNW اس انتظامی تبدیلی کو شہری تحفظ، حکمرانی اور عوامی مفاد کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل معلومات سرکاری نوٹیفکیشن اور دستیاب تفصیلات پر مبنی ہیں، جبکہ کسی بھی معاملے کا حتمی جائزہ متعلقہ قانونی و انتظامی فورمز کا اختیار ہے۔


