7

بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ: شہری کی آنکھ ضائع ہونے پر سندھ حکومت، بی آر ٹی انتظامیہ اور کنٹریکٹر کے خلاف 17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سینیئر سول جج شرقی/سٹی کورٹ کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران پیش آنے والے حادثے سے متعلق ہرجانے کے دعوے کی سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار نے سندھ حکومت، بی آر ٹی انتظامیہ اور متعلقہ کنٹریکٹر کے خلاف 17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانے کی استدعا کی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مدعی سید وقاص 2025 میں حج کی ادائیگی کے لیے پاکستان آئے تھے۔ مئی 2025 کی ایک رات ایئرپورٹ جاتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر ان کی گاڑی تعمیراتی کام کے دوران رکھے گئے بیریئر سے ٹکرا گئی۔

وکیل کے مطابق سڑک کے درمیان موجود بیریئرز پر نہ ریفلیکٹرز نصب تھے اور نہ ہی مناسب وارننگ بورڈز لگائے گئے تھے، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں مدعی کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی جبکہ چہرے پر شدید فریکچر بھی آئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران عوامی تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق ضروری اقدامات مکمل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ طبی اخراجات، بحالی، مستقل معذوری اور دیگر نقصانات کی مد میں 17 کروڑ 87 لاکھ روپے بطور ہرجانہ دلوایا جائے۔

انسانی حقوق کے تناظر میں شہریوں کا محفوظ ماحول، عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کے دوران عوامی جانوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاستی اداروں اور تعمیراتی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ منصوبوں کے دوران حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

HRNW اس معاملے کو شہری حقوق، عوامی تحفظ اور احتساب کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فریق، ادارے یا مقدمے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل مؤقف متعلقہ فریقین سے منسوب ہیں جبکہ حتمی فیصلہ عدالت کا اختیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں