7

ایمان مزاری کیس: سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی، وکیل نے دلائل جاری رکھنے کی استدعا کر دی

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – سپریم کورٹ آف پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ دورانِ سماعت وکلا نے عدالتی کارروائی، قانونی نکات اور انصاف کی فراہمی سے متعلق اہم دلائل پیش کیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں متعلقہ کیس 24 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر ہے، جس کے باعث سپریم کورٹ میں معاملہ زیرِ سماعت آیا۔

ایمان مزاری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں سماعت کی وجہ سے کیس مقرر ہوا ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سے ہی انصاف کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی وجہ سے کارروائی ملتوی ہوئی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں بیٹھ کر ہائیکورٹ کی کارروائی کو ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد مقدمات میں سپریم کورٹ نے ہائیکورٹس کو احکامات جاری کیے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ کارروائی کو ریگولیٹ کرنے اور احکامات جاری کرنے میں فرق ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے قابلِ سماعت قانونی نکات پر دلائل سن لیے جائیں، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کیس کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق ایسے مقدمات میں عدالتی عمل کی شفافیت، منصفانہ ٹرائل کے حق، آزادیٔ اظہار اور قانونی تحفظات جیسے بنیادی حقوق انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت ہر فرد کو منصفانہ سماعت اور مؤثر قانونی معاونت کا حق حاصل ہے۔

HRNW اس کیس کو انسانی حقوق، قانونی انصاف اور بنیادی آزادیوں کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فریق، ادارے یا کیس کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل مؤقف متعلقہ فریقین سے منسوب ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ عدالت کا اختیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں