15

امریکہ نے پشاور قونصل خانہ بند کر دیا، خیبر پختونخوا سے متعلق امور اسلام آباد سفارت خانے کو منتقل

**اسلام آباد / پشاور (ایچ آر این ڈبلیو)** – امریکہ نے باضابطہ طور پر **پشاور میں واقع اپنا قونصل خانہ (Consulate General Peshawar)** بند کر دیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داری **اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے خیبر پختونخوا یونٹ (KPU)** کو منتقل کر دی گئی ہے۔

امریکی قونصل خانے پشاور کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم **ایکس (X)** پر جاری بیان میں کہا گیا کہ قونصل خانے کا سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ اب فعال نہیں رہے گا۔

بیان میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ مستقبل کی معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے **فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس** اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

امریکی مشن کے مطابق خیبر پختونخوا اور پاکستان بھر میں **تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کے استحکام اور عوامی شراکت داریوں کے حوالے سے سرگرمیوں** کی معلومات امریکی سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گی۔

اعلامیے میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ خیبر پختونخوا سے متعلق سفارتی اور عوامی رابطوں کے امور اب اسلام آباد میں قائم متعلقہ یونٹ کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

### **انسانی حقوق کا زاویہ**

**ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** اس بات پر زور دیتا ہے کہ سفارتی مشنز اور بین الاقوامی شراکت داروں کی موجودگی عوامی رابطوں، تعلیمی تبادلوں، ترقیاتی تعاون، انسانی حقوق کے فروغ اور عوامی خدمات تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کسی بھی سفارتی ڈھانچے میں تبدیلی کے دوران یہ ضروری ہے کہ عوام، طلبہ، کاروباری افراد اور ویزا یا قونصلر خدمات سے وابستہ افراد کو بروقت اور واضح معلومات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے حقوق، سہولیات اور خدمات تک رسائی متاثر نہ ہو۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں**

👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر امریکی قونصل خانے پشاور کے سرکاری سوشل میڈیا بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قونصل خانے کی بندش سے متعلق انتظامی اور سفارتی امور امریکی حکومت کی پالیسیوں کے تابع ہیں۔ **ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** کا مقصد انسانی حقوق، بین الاقوامی تعاون، شفاف معلومات اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔ یہ خبر **HRNW (hrnww.com)** پر پہلے شائع شدہ مواد سے منسلک نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں