کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — سندھ حکومت کے محکمہ سروس جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے مالیاتی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس کی ابتدائی دستاویزات میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تین کمپنیوں — ایم ایس انٹرپرائزز، صدیق اینڈ کمپنی اور مظفر آٹوز — کو مجموعی طور پر 4 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ یہ تینوں کمپنیاں دراصل ایک ہی مالک کی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق اوپن ٹینڈرنگ سے بچنے کے لیے کام مبینہ طور پر چھوٹے واؤچرز میں تقسیم کیا گیا۔ ایک ہی روز میں 30 واؤچرز کے ذریعے 84 لاکھ 71 ہزار روپے سے زائد کی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا، جبکہ دسمبر 2025 میں 27 واؤچرز کے ذریعے ایک کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد کلیئر کیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق فروری 2026 تک مزید 2 کروڑ روپے سے زائد ادائیگیاں کی جاتی رہیں۔
تحقیقات میں ڈی ڈی او فواد جونیجو پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور من پسند ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جب کہ مظفر حسین صدیقی کو تین مختلف کمپنیوں کے ذریعے غیر قانونی مالی فوائد پہنچائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2010 کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آئی ہیں، اور رول 12 اور 15 کے تحت لازمی اوپن ٹینڈرنگ کے عمل کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مختلف کمپنیوں کے نام سے ایک ہی مالک کو لاکھوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
انسانی حقوق / عوامی مفاد زاویہ
اس نوعیت کے مالیاتی اسکینڈل دراصل عوامی مفاد اور معاشی انصاف کے مسئلے ہیں، کیونکہ سرکاری فنڈز عوامی پیسے ہوتے ہیں جو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر پروکیورمنٹ قوانین کی خلاف ورزی کر کے چند افراد یا کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچایا جائے تو اس کا براہِ راست اثر عوامی خدمات کے معیار، بجٹ خسارے اور کمزور طبقات کے لیے دستیاب وسائل پر پڑتا ہے۔ شفافیت، جواب دہی اور قانون کی حکمرانی خود ایک انسانی حقوق کی بنیاد ہیں، کیونکہ کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال شہریوں کے حقِ ترقی، برابری اور ریاستی اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
سپورٹ اپیل
ایسے مالیاتی اسکینڈلز، کرپشن کیسز اور عوامی فنڈز کے استعمال پر تحقیقاتی، آزاد اور بے خوف صحافت ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کو سچ معلوم ہو اور اداروں کو جواب دہ بنایا جا سکے۔ ہماری آزاد صحافت اور حقوقِ انسانی کی رپورٹنگ کی حمایت کریں — چندہ دینے کے لیے یہاں کلک کریں:
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
ڈسکلیمَر
یہ خبر دستیاب دستاویزات، ابتدائی تحقیقاتی معلومات اور سرکاری ریکارڈ کے دعووں پر مبنی خلاصہ ہے، جس میں تمام الزامات ابھی ثابت شدہ نہیں ہیں۔ مالیاتی ذمہ داری، قانونی خلاف ورزیوں اور متعلقہ افراد کی حیثیت کا حتمی تعین مجاز تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے فیصلوں کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ تازہ ترین اور حتمی حقائق جاننے کے لیے متعلقہ محکموں، تحقیقاتی اداروں اور عدالتی ریکارڈ کے آفیشل بیانات سے رجوع کیا جانا چاہیے۔


