کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — کورنگی روڈ پر 1992 میں پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والے شہری کے ہرجانے کے دعویٰ پر عدالتی فیصلہ سامنے آ گیا، جس میں عدالت نے سندھ حکومت اور سرکاری بس کے ڈرائیور کو مشترکہ طور پر مدعی کو ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدعی کے وکیل فراز فہیم ایڈووکیٹ کے مطابق کشن لال 1992 میں کورنگی روڈ پر تیز رفتار سرکاری بس کی ٹکر سے شدید زخمی ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا، اور چونکہ حادثہ سرکاری بس سے ہوا، اس لیے سندھ حکومت بھی اس واقعے کی ذمہ دار قرار پائی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ حادثے کے نتیجے میں مدعی کی ٹانگ ضائع ہوگئی اور وہ مستقل جسمانی معذوری میں مبتلا ہو گئے، جس سے نہ صرف ان کی آمدنی کے ذرائع متاثر ہوئے بلکہ سماجی زندگی بھی شدید طور پر متاثر ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقام پر تیز رفتاری اور غلط سمت میں گاڑی چلانا واضح طور پر غفلت اور لاپرواہی کے زمرے میں آتا ہے، جس کے لیے ریاست اور ڈرائیور دونوں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔
فیصلے میں عدالت نے حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر مدعی کشن لال کو ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔ بتایا گیا کہ 2025 میں سول کورٹ ترمیمی ایکٹ کے بعد یہ دعویٰ سول کورٹ منتقل ہوا تھا، جس پر اب سینئر سول جج جنوبی نے حتمی فیصلہ صادر کیا۔


