8

سندھ ہائیکورٹ: خواتین کو بیرونِ ملک اسمگل کرنے کے کیس میں دو ملزمان کی ضمانت مسترد

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان سے انسانی اسمگلنگ کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے خواتین کو بیرونِ ملک اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ دونوں ملزمان کو ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل نے صدر کے ایک نجی ہوٹل پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا، جہاں سے ایک خاتون بھی برآمد ہوئی تھی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان خلیق احمد کے مطابق برآمد ہونے والی خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر ہوٹل تک لایا گیا تھا اور انہیں بیرونِ ملک اسمگل کیا جانا تھا۔ خلیق احمد نے عدالت کو بتایا کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق قانون میں ترمیم ہو چکی ہے اور اب اس نوعیت کے جرم کی سزا 14 سال تک ہے، جب کہ ملزمان کے وکلا کسی ایک ثبوت کی بھی مؤثر طور پر تردید نہیں کر سکے۔ خلیق احمد کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ دونوں ملزمان کی ضمانت ماتحت عدالت نے بھی پہلے مسترد کر رکھی تھی۔

مختصر انسانی حقوق زاویہ
– خواتین کو ملازمت یا بہتر زندگی کا جھانسہ دے کر انسانی اسمگلنگ کی کوشش نہ صرف سنگین فوجداری جرم ہے بلکہ انسانی وقار، آزادیِ نقل و حرکت، اور استحصال سے تحفظ کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
– عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اور عدالتی نظام انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، تاہم متاثرہ خواتین کو تحفظ، قانونی مدد، نفسیاتی سپورٹ اور بحالی کے مؤثر اقدامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنی فوجداری سزا۔

سپورٹ اپیل
ایسے حساس کیسز — خصوصاً خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور استحصال — پر آزاد، ذمہ دار اور تحقیقاتی صحافت عوامی آگاہی اور ریاستی جواب دہی کے لیے ناگزیر ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور حقوقِ انسانی کی رپورٹنگ کی حمایت کریں — چندہ دینے کے لیے یہاں کلک کریں:
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)

مختصر ڈسکلیمَر
یہ رپورٹ دستیاب عدالتی بیانات اور پراسیکیوٹر کے مؤقف کے خلاصے پر مبنی ہے۔ مقدمے کے حقائق، ثبوت اور قانونی نتائج کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت اپنے تفصیلی حکم میں کرے گی۔ تازہ ترین اور جامع قانونی معلومات کے لیے سرکاری عدالتی ریکارڈ اور متعلقہ اداروں کے آفیشل بیانات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں