7

کراچی: ویمن ڈویلپمنٹ کمپلیکس — سندھ حکومت کی عدم دلچسپی بے نقاب

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — سندھ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح اور خواتین کی ترقی کے اہم منصوبوں میں عدم دلچسپی کا ایک اور افسوسناک مثال سامنے آ گئی ہے، جہاں اسکیم 33 میں ویمن ڈویلپمنٹ کمپلیکس کے لیے مختص سرکاری زمین 10 برس بعد بھی خالی پڑی ہے اور منصوبے کی ایک اینٹ تک نہیں رکھی جا سکی۔ سال 2016 میں ویمن کمپلیکس منصوبے کا اعلان کیا گیا، جس کی مجموعی مالیت 662 ملین روپے بتائی گئی اور پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات کے مطابق اس اسکیم کا اے ڈی پی نمبر 3104 ہے، مگر عملی طور پر منصوبہ کاغذوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

رپورٹ کے مطابق ویمن کمپلیکس کی سرکاری جگہ ابتدائی سات سال تک مبینہ قبضہ مافیا کے قبضے میں رہی، جسے سندھ ہائی کورٹ کے واضح حکم پر 2024 میں واگزار کرانے کے احکامات دیے گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں امینیٹی پلاٹس کے تحفظ پر شدید زور دیتے ہوئے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو منصوبے کے لیے فنڈز فوری جاری کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم احکامات کے باوجود محکمہ ویمن ڈیولپمنٹ نے مبینہ طور پر محکمہ خزانہ کو رقم کی فراہمی کے لیے باقاعدہ خط بھی نہیں لکھا، جس کے باعث بیوروکریسی کی سستی اور غفلت سے 662 ملین روپے کا یہ اہم منصوبہ فائلوں کی نذر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وزیر ویمن ڈیولپمنٹ شاہینہ شیر علی نے ویمن کمپلیکس منصوبے پر گفتگو کرنے اور مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔

مختصر انسانی حقوق زاویہ
– ویمن ڈویلپمنٹ کمپلیکس جیسے منصوبے خواتین کے لیے تربیت، قانونی مدد، روزگار، مشاورت اور تحفظ کی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں؛ اس طرح کی تاخیر خواتین کے حقِ ترقی، مساوی مواقع اور محفوظ ماحول تک رسائی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
– سرکاری زمین اور امینیٹی پلاٹس کا تحفظ دراصل عوامی حقوق کا تحفظ ہے؛ جب خواتین کے نام پر بننے والا منصوبہ ایک دہائی تک عملیت سے محروم رہے تو یہ ریاستی ذمہ داری، صنفی مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

سپورٹ اپیل
خواتین کے حقوق، عوامی فلاحی منصوبوں اور حکومتی کارکردگی پر آزاد، تحقیقاتی اور بے خوف صحافت نہایت ضروری ہے تاکہ جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہماری آزاد صحافت اور حقوقِ انسانی کی رپورٹنگ کی حمایت کریں — چندہ دینے کے لیے یہاں کلک کریں:
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)

مختصر ڈسکلیمَر
یہ خبر دستیاب عدالتی احکامات اور متعلقہ محکموں کے ریکارڈ و ذرائع کی اطلاعات پر مبنی ہے، جو وقت کے ساتھ انتظامی یا عدالتی پیش رفت کے باعث تبدیل ہو سکتی ہیں۔ منصوبے کی تازہ ترین صورتحال اور فنڈز کے اجرا کے بارے میں حتمی معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے آفیشل بیانات اور دستاویزات سے رجوع کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں