24

طاہر اشرفی کا مولانا فضل الرحمان کو مناظرے کا چیلنج، کارکنوں کو اخلاق کا درس دینے کی اپیل

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو براہِ راست مناظرے کا چیلنج دے دیا۔

اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہر چند ماہ بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے بعض افراد کی جانب سے الزام تراشی کی ایک نئی مہم شروع کر دی جاتی ہے، جس کا حصہ عام کارکن بھی بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے رویوں کا جواب گالی، بدزبانی یا بدتہذیبی سے نہیں دیا جانا چاہیے، بلکہ صبر، اخلاق اور شائستگی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق انہوں نے ہمیشہ اپنے کارکنوں کو بھی یہی ہدایت دی ہے۔

طاہر اشرفی نے مولانا فضل الرحمان سے اپیل کی کہ وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو اخلاق اور تہذیب کا درس دیں، یا پھر اپنا نمائندہ نامزد کریں تاکہ کسی بھی ٹی وی چینل پر براہِ راست گفتگو کے ذریعے عوام کے سامنے حقائق رکھے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس گفتگو میں 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفیٰ سے لے کر موجودہ دور تک اسلام، پاکستان اور قومی مفادات کے لیے مختلف سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے کردار، خدمات اور مؤقف کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے یہ بھی آنا چاہیے کہ کون کن حکومتوں کا حصہ رہا، کس نے اقتدار کے ایوانوں میں کیا کردار ادا کیا اور مختلف مواقع پر کس قسم کے مؤقف اختیار کیے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ قوم سچ اور جھوٹ، دیانت اور الزام تراشی، جبکہ خدمت اور ذاتی مفاد کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

**HRNW کی اپیل:**
آزاد، ذمہ دار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دیں۔ HRNW کی معاونت کے لیے وزٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:**
یہ خبر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے جاری کردہ بیان پر مبنی ہے۔ خبر میں شامل خیالات اور الزامات متعلقہ بیان دینے والے کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں