گلگت (ایچ آر این ڈبلیو) — گلگت بلتستان اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دی جائے تاکہ وہاں کے عوام کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی نمائندگی میسر ہو سکے۔
قرارداد میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ عبوری صوبائی حیثیت ملنے تک گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے اور قومی وسائل میں اس کا جائز حصہ یقینی بنایا جائے۔ ارکان اسمبلی نے آئینی شمولیت، نمائندگی اور مالی شفافیت کو علاقائی ترقی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
ماہرین اور سیاسی حلقوں کے مطابق یہ اقدام گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل اور نمائندہ اقدار کے حوالے سے اہم سنگِ میل ہو سکتا ہے، تاہم عبوری صوبائی حیثیت کے حقیقی نفاذ کے لیے وفاقی سطح پر قانون سازی اور ضروری آئینی عمل درکار ہوگا۔
انسانی حقوق کا زاویہ
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ علاقائی نمائندگی، سیاسی شمولیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بنیادی شہری و معاشی حقوق کے اہم جزو ہیں۔ کسی بھی آئینی یا انتظامی تبدیلی کے نفاذ میں شفاف مشاورتی عمل، عوامی شمولیت اور قانونی تقاضوں کا مکمل خیال رکھا جانا چاہیے تاکہ مقامی آبادی کے حقوق اور آئینی مساوات یقینی بنائی جا سکے۔
🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر دستیاب اسمبلی قرارداد اور ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ عبوری صوبائی حیثیت کے نفاذ، این ایف سی ایوارڈ میں شمولیت اور آئینی عمل کی حتمی تفصیلات وفاقی حکومت اور متعلقہ قانون سازی کے بعد واضح ہوں گی۔ ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کا مقصد انسانی حقوق، شفاف احتساب اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔


