6

سندھ ہائی کورٹ: ایف بی آر کا نظر ثانی شدہ ریٹرن جمع نہ کرنے دینے کا حکم کالعدم قرار

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) — سندھ ہائی کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے نجی کمپنی کو نظر ثانی شدہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی اجازت نہ دینے کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریوینیو کو تفصیلی وجوہات پر مبنی نیا حکم جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کیس کی تفصیلات
وکیل درخواست گزار کے مطابق نجی کمپنی نے ٹیکس سال 2019 کے انکم ٹیکس ریٹرن اگست 2020 میں جمع کروائے تھے، جن کے ساتھ غیر آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے منسلک کیے گئے تھے۔ کمپنی نے 2021 میں انکم ٹیکس قوانین کے تحت نظر ثانی شدہ ریٹرن جمع کروانے کی اجازت طلب کی تھی، لیکن ایف بی آر نے درخواست مسترد کر دی تھی۔

ایف بی آر نے کمپنی کے خلاف 51 کروڑ سے زائد ٹیکس واجبات کا اسسمنٹ آرڈر جاری کیا۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کمپنی نے صرف آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے جمع کروانے کی اجازت طلب کی تھی، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے کمپنی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ وکیل ایف بی آر نے مؤقف اپنایا کہ قوانین کے تحت کمپنی پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے عائد ہونا لازمی تھے۔

عدالت کے ریمارکس
عدالت نے واضح کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے متعلقہ سیکشن کا اطلاق نظر ثانی شدہ ریٹرن جمع کروانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ چونکہ درخواست مسترد ہونے کے بعد نظر ثانی شدہ ریٹرن کبھی جمع نہیں ہوئے، اس لیے ایف بی آر کا حکم درست نہیں تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مالیاتی قوانین کی تشریح میں قانون کے واضح الفاظ کو ہی مقدم رکھا جاتا ہے اور عدالت کسی ایسے مفہوم کا اضافہ نہیں کر سکتی جو قانون میں موجود نہ ہو۔ ایف بی آر نے درخواست مسترد کرتے ہوئے وجوہات کا تعین نہیں کیا، جو کہ قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔

انسانی حقوق اور قانونی پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ ٹیکس معاملات میں شفافیت، انصاف کا اصول اور فریقین کو موقعِ سماعت دینا لازمی ہے۔ کاروباری اداروں کے حقوق، قانونی تحفظ اور ریاست کی آمدنی کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔

⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر عدالتی کارروائی کی ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات، حتمی احکامات اور قانونی پیش رفت عدالتی ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں دستیاب ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں