5

کراچی بار ایسوسی ایشن کا واٹر ٹینکر حادثات پر تشویش کا اظہار؛ سخت قانون سازی اور جی پی ایس نگرانی کا مطالبہ

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) — کراچی بار ایسوسی ایشن نے شہر میں جان لیوا واٹر ٹینکر حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ بار کا کہنا ہے کہ ٹریفک حادثات پر لاگو سیکشن 320 پی پی سی کو ناقابل ضمانت بنانے کے لیے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے، تاکہ مہلک حادثات میں ملوث ڈرائیوروں کو آسانی سے ضمانت نہ مل سکے۔

کراچی بار کے مطالبات
– ہیوی ٹریفک کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام نافذ کیا جائے
– غیر لائسنس یافتہ اور فرار ہونے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے
– تمام واٹر ٹینکرز اور ہیوی گاڑیوں پر جی پی ایس نگرانی لازمی قرار دی جائے
– واٹر ٹینکرز کے لیے مقررہ رفتار کی حد اور مرکزی سطح پر نگرانی کو یقینی بنایا جائے
– شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہیوی ٹریفک قوانین مزید سخت کیے جائیں
– ہیوی ٹریفک حادثات کے ذمہ داروں کے خلاف موثر احتساب ناگزیر ہے
– رات 12 بجے سے صبح 7 بجے تک ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت محدود رکھی جائے

حادثات کے اعداد و شمار
کراچی بار کے مطابق 2025 کے پولیس ڈیٹا کے مطابق 803 ٹریفک اموات ہوئی ہیں جس میں سے بارہ ہزار زخمی ہوئے۔ ہلاکتوں کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری ہے اور رواں سال اپریل تک ہیوی ٹریفک سے 107 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

انسانی حقوق اور شہری تحفظ کا پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی بڑی تعداد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین میں سختی، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا، ڈرائیوروں کی تربیت اور احتساب کے ذریعے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر کراچی بار ایسوسی ایشن کے بیان اور پولیس ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات اور حکومتی اقدامات متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں جاری کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں