کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) — سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ہائی پروفائل قیدی شکیل صدیقی کے علاج سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے اہل خانہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو مکمل علاج و معالجے کے لیے کراچی منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے یہ حکم نامہ حیدر آباد جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف تھا کہ شکیل صدیقی 2015 سے جیل میں قید ہے اور اسے ملٹری کورٹ نے مختلف الزامات میں 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
درخواست گزار کے مطابق ملزم گزشتہ چند ماہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے، تاہم جیل میں علاج کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں اور جیل انتظامیہ نے اسے مؤثر طبی سہولت فراہم نہیں کی۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ملزم کو فوری طور پر جیل سے باہر کسی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جس پر عدالت نے علاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
انسانی حقوق کا پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بھی انسانی سلوک اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ چاہے کوئی شخص کسی بھی جرم میں سزا یافتہ ہو، اسے علاج معالجے، صاف پانی، خوراک اور انسانی وقار سے جڑی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ جیلوں میں طبی سہولیات کی کمی، تاخیر اور لاپرواہی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
🤝 دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں
👉 https://www.hrnww.com/?page_id=1083
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر عدالتی کارروائی کی ابتدائی رپورٹس اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات، حتمی احکامات اور طبی رپورٹس عدالتی ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں دستیاب ہوں گی۔


