کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) — سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم کے تحت ڈائریکٹویٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے نجی اسکول کی فیس میں اضافے کے خلاف کارروائی کے حکم نامے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک درخواست گزار اسکول کے خلاف کوئی بھی سخت اقدام نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگست کے پہلے ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔ وکیل درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ڈائریکٹوریٹ نے والدین کی شکایت پر کارروائی کا حکم دیا، لیکن والدین کے مطابق اسکول نے ٹیوشن فیس میں متعلقہ حکام کی پیشگی منظوری کے بغیر اضافہ کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ والدین کی شکایت کی نقول اسکول کو فراہم نہیں کی گئیں، درخواست گزار اسکول کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، اور اتھارٹی نے سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈینس کے تحت طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔
انسانی حقوق اور قانونی پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی میں شفافیت، انصاف کا اصول اور فریقین کو موقعِ سماعت دینا لازمی ہے۔ والدین کے حقوق، بچوں کی تعلیم کا حق اور اداروں کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر عدالتی کارروائی کی ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات، حتمی احکامات اور قانونی پیش رفت عدالتی ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کی باضابطہ اطلاعات میں دستیاب ہوں گی۔


