6

نواب شاہ SICHN ہسپتال: انتظامی دہشت گردی اور سفارشی کلچر؛ غریب کے بچے کی موت نے نظام کی عکاسی کر دی

نواب شاہ (ایچ آر این ڈبلیو) — صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، خاتونِ اول آصفہ بھٹو اور صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے آبائی شہر نواب شاہ میں SICHN ہسپتال ‘انتظامی دہشت گردی’ اور ‘سفارشی کلچر’ کا قلعہ بن چکا ہے، جہاں غریب کے بچے کا علاج کسی وڈیرے کی فون کال سے مشروط ہو گیا ہے۔ صحافی ذیشان حیدر ابڑو کی تازہ ترین تحقیقات کے مطابق، 13 جولائی کو ایک دن کے نوزائیدہ بچے کو وینٹی لیٹر کی اشد ضرورت تھی، مگر انتظامیہ نے ‘No Bed’ لکھ کر اسے ریجیکٹ کر دیا۔ متاثرہ باپ ساری رات دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا کہ شاید کسی وڈیرے سے فون کروا دوں یا ‘زرداری ہاؤس’ کے دروازے کھل جائیں، لیکن سفارشی تاخیر میں معصوم بچہ موت کی نیند سو گیا۔

تحقیقات کے انکشافات
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 30 جون سے 14 جولائی تک کے ‘موت کے پروانے’ (Slips) تو صرف وہ ہیں جو خفیہ طور پر حاصل کیے گئے، جبکہ ہسپتال کے اندرونی ذرائع کے مطابق اصل حقیقت یہ ہے کہ روزانہ 15 فیصد بچے صرف ‘آئی سی یو بلاکنگ’ کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں۔ نواب شاہ آئی سی یو کے لیے سالانہ 53 کروڑ 7 لاکھ روپے (ماہانہ 4.4 کروڑ) کا شاہانہ بجٹ ہونے کے باوجود ہسپتال کو سفارش پر بھرتی ‘ڈپلومہ ہولڈرز’ کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ انتظامیہ ‘اعداد و شمار’ ٹھیک دکھانے کے لیے صرف ‘کم بیمار’ بچوں کو داخل کرتی ہے جبکہ سیریس بچوں کو موت کے موت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ پارکنگ مافیا کی غنڈہ گردی اور وارڈز پر سیکیورٹی گارڈز کا ‘پہرہ’ غریب والدین کی تذلیل کا باعث بن رہا ہے۔

انتظامیہ کے لیے ‘لاجواب’ سوال
ڈائریکٹر پروفیسر علی اکبر سیال بتائیں کہ کیا نواب شاہ کے بچوں کو بیڈ ملنے کے لیے ہر بار ‘میڈیا کا دباؤ’ یا ‘وڈیرے کی سفارش’ ہی درکار ہوگی؟ (جیسا کہ 14 جولائی کے بچے کو خبر چلنے کے بعد 15 جولائی کو بیڈ مل گیا)۔ اکتوبر 2025 میں محتسبِ اعلیٰ کی یقین دہانی 8 ماہ بعد بھی جھوٹا وعدہ ثابت ہوئی ہے۔ ہسپتال میں لگے ‘ناقابلِ ضمانت جرم’ کے بورڈز ثابت کرتے ہیں کہ انتظامیہ کیمرے کی آنکھ سے اس لیے خوفزدہ ہے کہ وہ سچائی کو دفن کرنا چاہتی ہے۔

عوامی مطالبات
عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ‘خفیہ لاشوں’ کا حساب لینے کے لیے بجٹ کا فوری فارنزک آڈٹ کروایا جائے، آئی سی یو بیڈز کی شفاف الاٹمنٹ یقینی بنائی جائے، سفارشی بھرتیوں کا خاتمہ کیا جائے اور غریب والدین کے ساتھ ہونے والی تذلیل کو روکا جائے۔ قیادت کے اپنے شہر میں انسانیت کا یہ جنازہ حکمرانوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔

انسانی حقوق اور صحت کا پہلو
ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) اس بات پر زور دیتا ہے کہ صحت کا حق بنیادی انسانی حق ہے اور ہر شہری کو معیاری علاج کی مساوی رسد حاصل ہونی چاہیے۔ سفارشی کلچر، انتظامی لاپرواہی اور بچوں کی اموات کی خفیہ کاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ریاست کو فوری ایکشن، شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔

⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر صحافی کی تحقیقاتی رپورٹ، ہسپتال کے اندرونی ذرائع اور عوامی حلقوں کے بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات، سرکاری آڈٹ رپورٹس اور محکمہ صحت کے اقدامات متعلقہ اداروں کی باضابطہ اطلاعات میں جاری کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں