26

کلفٹن میں ڈکیتی میں نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق، اہلِ خانہ کا ملزمان کی گرفتاری تک دھرنا کا اعلان

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی کے علاقے کلفٹن، تین تلوار کے قریب بینک کے باہر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان ڈاکٹر آکاش کی میت جناح اسپتال سے سرد خانے منتقل کر دی گئی ہے۔

مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا **کھیم چند** نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے وقت ڈاکٹر آکاش کے والد اور کزن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینک کے باہر فائرنگ کرکے ان کے بھتیجے کو قتل کیا گیا۔

کھیم چند کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور وہ صنعتکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے بچوں کو بے گناہ قتل کیا جا رہا ہے، حکومت کو ایسے واقعات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔”

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ **سید مراد علی شاہ** اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

مقتول کے چچا نے کہا کہ اگر سڑکوں پر قابل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس طرح نشانہ بنایا جائے گا تو لوگ ملک میں کیسے محفوظ محسوس کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال میں گزشتہ دو سال سے خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ ان کے والد کا سکھر میں کاٹن فیکٹری کا کاروبار ہے۔

اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہریوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوتے، وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

اہلِ خانہ کے مطابق 28 سالہ ڈاکٹر آکاش غیر شادی شدہ تھے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

**رپورٹ: عمران چھوٹانی**

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

انسانی حقوق، شہری تحفظ، انصاف اور عوامی مسائل کی آزادانہ رپورٹنگ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر اہلِ خانہ کے بیانات، دستیاب معلومات اور ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ الزامات کی حتمی تصدیق قانونی تحقیقات اور عدالت کے فیصلے کے بعد ہوگی۔ HRNW ذمہ دار اور غیرجانبدار صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں