**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):**سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سابق ارکانِ پارلیمنٹ، ان کے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کو مفت **آفیشل (بلیو) پاسپورٹ** جاری کرنے سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر **عبدالقادر** کی جانب سے پیش کیا گیا **”دی ممبرز آف پارلیمنٹ (سیلریز اینڈ الاؤنسز) ترمیمی ایکٹ 2026″** زیرِ غور آیا، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔
ترمیمی بل کے متن کے مطابق سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو مفت آفیشل (بلیو) پاسپورٹ کے حصول کا حق دیا جائے گا۔
بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے **شریکِ حیات** بھی مفت بلیو پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے، جبکہ **28 سال سے کم عمر زیرِ کفالت بچے** بھی اس سہولت کے اہل ہوں گے۔
قانونی و عوامی حلقوں میں اس تجویز پر بحث کا امکان ہے، جہاں ایک جانب سابق پارلیمنٹرینز کے سرکاری کردار اور خدمات کے حوالے سے سہولت کی حمایت کی جا سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی وسائل کے استعمال، مساوات اور حکومتی مراعات کے دائرہ کار پر سوالات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی سرکاری سہولت یا مراعات سے متعلق قانون سازی میں شفافیت، مالی اثرات کا جائزہ اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، احتساب اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کیے گئے بل اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بل کی منظوری کمیٹی سطح پر ہوئی ہے، جبکہ قانون بننے کے لیے مزید آئینی و پارلیمانی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔ HRNW غیرجانبدارانہ اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


