24

حساس اداروں کے نام پر مبینہ جعل سازی کا نیٹ ورک بے نقاب، کراچی پولیس نے دو ملزمان گرفتار کر لیے

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی پولیس نے مبینہ طور پر حساس اداروں کا نام استعمال کرکے سرکاری افسران، بلڈرز اور دیگر افراد کو دباؤ میں لا کر غیر قانونی کاموں کے ذریعے کروڑوں روپے کمانے والے دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر ایک جعلی نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، جس میں خود کو وفاقی حساس ادارے سے منسلک ظاہر کرکے مختلف سرکاری اداروں کے افسران پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی تھی۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نے اپنے مبینہ نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے کراچی کے علاقے **بہادر آباد** میں ایک بلڈر کو بلیک میل کرکے ایک بنگلہ حاصل کیا، جہاں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اور وفاقی اداروں کے لوگو اور شناختی مواد استعمال کیے جاتے تھے۔

پولیس کے مطابق **بہادر آباد پولیس** نے پیر پگارا ہاؤس کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ایک سیاہ رنگ کی کرولا کار میں موجود دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد میں:

* **محمد طلحہ یوسفی ولد محمد یونس** (سابق بینک ملازم)
* **سید علی حقانی عرف محمد احمد ولد عبدالقادر عرف احمد مدنی**

شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر **193/26** درج کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان سے مبینہ طور پر حساس وفاقی ادارے کے جعلی کارڈز بھی برآمد ہوئے، جنہیں استعمال کرکے وہ پولیس اور دیگر اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر مختلف سرکاری اداروں میں انکوائریز، مقدمات اور انتظامی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض سرکاری اداروں کے افسران بھی ان کے مبینہ اثر و رسوخ سے متاثر رہے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے **جامعہ کراچی** سمیت مختلف اداروں کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کی، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کے مبینہ روابط بعض افسران اور اداروں تک ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، جبکہ تفتیش کے دوران مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور نہیں کی اور ملزمان کو جیل بھیج دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں، حساس اداروں یا ریاستی شناخت کا غلط استعمال ایک سنگین جرم ہے، جس کی مکمل تحقیقات، شفاف قانونی کارروائی اور ذمہ دار عناصر کا تعین ضروری ہے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، عوامی اداروں کے تحفظ اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر پولیس ذرائع، ابتدائی معلومات اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ خبر میں شامل الزامات تاحال عدالت سے ثابت نہیں ہوئے۔ تمام ملزمان کو قانون کے مطابق دفاع کا حق حاصل ہے اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ HRNW غیرجانبدارانہ اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں