18

واٹر کارپوریشن کی اراضی پر مجوزہ فیول پمپ منصوبہ، شفافیت اور ٹینڈرنگ کے عمل پر سوالات

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کی اراضی پر **فیول پمپ اسٹیشن** قائم کرنے کے مجوزہ منصوبے کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک نجی فرم کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے پر غور کے لیے **6 رکنی کمیٹی** تشکیل دے دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی کے **کنوینئر ایاز حسین تنیو** جبکہ **شفقت حسین منگن** کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی منصوبے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پیش کرے گی، جس کے بعد حتمی منظوری یا فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیول پمپ کی تعمیر کے لیے واٹر کارپوریشن کی **ورکشاپ کی اراضی** تجویز کی گئی ہے، تاہم منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کے بعض ارکان کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق واٹر کارپوریشن کے بعض سینئر افسران نے **اوپن ٹینڈر** کے بغیر منصوبے کو آگے بڑھانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر فیول پمپ قائم کرنا مقصود ہے تو اس کے لیے **شفاف، مسابقتی اور اوپن ٹینڈر** کے ذریعے تمام اہل کمپنیوں کو مساوی موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق بعض حلقوں نے صرف ایک مخصوص نجی فرم کے تجویز کردہ منصوبے پر غور کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تقریباً **دو سال قبل** بھی اسی نوعیت کا ایک منصوبہ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے حتمی منظوری حاصل نہ کر سکا تھا۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ بورڈ اجلاس میں پیش کرے گی، جہاں منصوبے پر حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

گورننس اور پبلک سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کی اراضی اور وسائل سے متعلق تمام منصوبوں میں شفافیت، مسابقت، قانونی تقاضوں کی پابندی اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازع یا مفادات کے ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، احتساب، عوامی وسائل کے تحفظ اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ منصوبے سے متعلق حتمی فیصلہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مجاز بورڈ اور متعلقہ حکام کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ متعلقہ اداروں اور فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں