**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** سابق رکنِ قومی اسمبلی **سردار اختر مینگل** نے بطور رکنِ قومی اسمبلی حاصل ہونے والی تمام تنخواہیں اور مراعات سرکاری خزانے میں واپس کر دی ہیں۔
سردار اختر مینگل نے تنخواہوں کی واپسی کے لیے **78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے** کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ایک تحریری خط بھی ارسال کیا ہے۔
اپنے خط میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ وہ **3 ستمبر 2024 سے 11 فروری 2026** تک کی مدت کی تنخواہیں واپس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر **78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے** کی رقم سرکاری خزانے میں منتقل کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر 2024 میں استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے کوئی تنخواہ یا الاؤنس استعمال نہیں کیا، لہٰذا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ان کے پارلیمانی بینک اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم واپس سرکاری خزانے میں منتقل کرے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ وہ عوامی خدمت میں دیانت داری، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ سردار اختر مینگل نے **3 ستمبر 2024** کو بلوچستان کے مسائل پر پارلیمنٹ کے کردار کے خلاف احتجاجاً **حلقہ NA-256 خضدار** سے رکنِ قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کا استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی نے **11 فروری 2026** کو باضابطہ طور پر منظور کیا تھا۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کو عوامی عہدوں پر مالی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم مثال قرار دیا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے عوامی نمائندگی میں اعتماد کو فروغ مل سکتا ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
شفاف حکمرانی، احتساب، انسانی حقوق اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر دستیاب سرکاری معلومات، بیانات اور متعلقہ فریق کے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ HRNW اس خبر کو عوامی آگاہی کے مقصد سے شائع کر رہا ہے اور کسی بھی مزید سرکاری وضاحت یا پیش رفت کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


