اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف 2026 کے آخر تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تمام ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنا ہے تاکہ شفافیت، سہولت اور مالی نظم و ضبط کو فروغ دیا جا سکے۔
کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 135 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو جون 2026 کے لیے مقررہ 120 ملین کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ سال کے اختتام تک پنشنرز، سرکاری ملازمین اور دکانداروں سمیت تمام مستحقین کو ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائیں، جس سے چیک بک اور دفاتر جا کر ادائیگی لینے کی ضرورت ختم ہوگی اور عوام کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔
وزیرِ مملکت کے مطابق پاکستان میں نقد ادائیگیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے فوری ادائیگی کے نظام راست، موبائل بینکنگ اور برانچ لیس بینکنگ سروسز کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے مالی شفافیت، ٹیکس وصولی اور لین دین کی سیکیورٹی میں بہتری آئے گی۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کے دوران ملک میں ہونے والے 3.7 ارب ریٹیل ادائیگیوں کے لین دین میں 92 فیصد حصہ ڈیجیٹل چینلز پر مشتمل تھا، جبکہ اسی عرصے میں ایپ پر مبنی ادائیگیوں کی تعداد 2.9 ارب اور مالیت 42 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران فوری ادائیگی کے نظام راست کے ذریعے 742.1 ملین ٹرانزیکشنز میں 23.3 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔


