سرگودھا(ایچ آراین ڈبلیو)سرگودھا کے علاقے گلشنِ عزیز کالونی کی رہائشی 14 سالہ اریزہ فاطمہ مبینہ طبی غفلت کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔ لواحقین کے مطابق بچی کو پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن میں تکلیف کے باعث 2 جولائی کو بلاک نمبر 18، گرلز کالج روڈ پر واقع رشید میڈیکل اسٹور لے جایا گیا تھا، جہاں موجود عطائی ندیم نے معمولی آپریشن کر کے مرہم اور پٹی باندھی اور اگلے روز ڈریسنگ کے لیے آنے کی ہدایت کی۔
اہلِ خانہ کے مطابق 3 جولائی کو جب دوبارہ ڈریسنگ کے لیے گئے تو ندیم موجود نہیں تھا، تاہم اس کا بھائی نسیم عطائی وہاں موجود تھا، جس نے خود کو زیادہ تجربہ کار ظاہر کرتے ہوئے ڈریسنگ کی ذمہ داری سنبھالی۔ الزام ہے کہ نسیم نے پہلے پٹی تبدیل کی اور پھر بچی کے کولہے پر دو انجکشن لگا دیے، جس کے فوراً بعد اریزہ فاطمہ کی طبیعت بگڑ گئی۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ انجکشن لگتے ہی بچی کو شدید تکلیف ہوئی، جسم نیلا پڑنے لگا اور سانس لینے میں دشواری شروع ہو گئی۔ والدہ فوری طور پر اریزہ کو ڈی ایچ کیو اسپتال سرگودھا کی ایمرجنسی لے گئیں، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے آئی سی یو منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے جسم میں انفیکشن پھیل چکا تھا اور اس نوعیت کے انجکشن لگانے سے قبل مکمل معائنہ اور ٹیسٹ ضروری تھے۔
اریزہ فاطمہ تین روز تک وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج رہی، تاہم 6 جولائی کی صبح وہ جانبر نہ ہو سکی۔
اریزہ کی والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر سرگودھا اور دیگر متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے، رشید میڈیکل اسٹور کو فوری سیل کرنے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت ندیم اور نسیم عطائیوں کی مبینہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔
واقعے کے بعد شہری حلقوں نے بھی عطائیوں کے خلاف سخت کارروائی اور ایسے مراکز کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس طرح کے افسوسناک سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔


