23

خصوصی افراد کے نام پراربوں روپے کے اخراجات، مگر نتائج کہاں؟

سندھ (ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ڈیپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز وِدھ ڈس ایبلٹیز (DEPD) کے اربوں روپے کے سالانہ بجٹ اور متعدد ترقیاتی منصوبوں کے باوجود خصوصی افراد اور ان کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد آج بھی معیاری تعلیم، بحالی، روزگار، معاون آلات اور بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی شکایات کر رہی ہے۔

اس صورتحال نے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ مختص کیے گئے وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں اور ان کے عملی نتائج کیا ہیں؟ ماہرین اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا محور صرف بجٹ نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں جاری ہونے والی ہر ترقیاتی اسکیم، ہر ٹینڈر، ہر خریداری اور ہر ادائیگی کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔

مطالبہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں محکمہ کو ملنے والے ترقیاتی و غیر ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات، ہر اسکیم کی اصل لاگت، نظرثانی شدہ اخراجات اور تکمیل کی صورتحال شائع کی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے کہ کن منصوبوں میں تاخیر ہوئی، کن کی لاگت میں اضافہ ہوا اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔

سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ معاون آلات، وہیل چیئرز، سماعتی آلات اور دیگر سامان کن کمپنیوں سے اور کس طریقۂ کار کے تحت خریدا گیا؟ کیا تمام خریداری قواعد کے مطابق اور مسابقتی ٹینڈرنگ کے ذریعے ہوئی؟ اسی طرح نجی اداروں اور این جی اوز کو دی جانے والی گرانٹس کا آڈٹ اور ان کے نتائج کیا ہیں، اور عملی طور پر کتنے خصوصی افراد کو فائدہ پہنچا—اس کا قابلِ تصدیق ریکارڈ کہاں موجود ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام ادائیگیوں، ٹینڈرز، ورک آرڈرز، کنٹریکٹس، آڈٹ رپورٹس اور منصوبوں کی جغرافیائی معلومات ایک عوامی ڈیجیٹل پورٹل پر شائع کر دی جائیں تو شفافیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹس، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے، جہاں ضرورت ہو، مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

خصوصی افراد کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ محکمہ اپنی کارکردگی صرف اخراجات کی بنیاد پر نہیں بلکہ نتائج کی بنیاد پر پیش کرے۔ عوام کو بتایا جائے کہ کتنے افراد کو مستقل روزگار ملا، کتنے بحالی مراکز فعال ہیں، کتنے نئے مراکز مکمل ہوئے اور کتنے منصوبے آج بھی نامکمل ہیں۔

سماجی رہنماؤں کے مطابق خصوصی افراد کے لیے مختص ہر روپیہ عوامی امانت ہے، اس لیے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی محض انتظامی تقاضا نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ تمام ریکارڈ عوام کے سامنے آنے سے نہ صرف اعتماد بحال ہوگا بلکہ مستقبل کے منصوبے بھی زیادہ مؤثر انداز میں تشکیل دیے جا سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں