حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ہیومن ریسورس آفیسر نعیم شورو کے خلاف سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں گردش کرنے والے الزامات پر سول سوسائٹی، شہری نمائندوں اور ملازمین کے ایک حلقے نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چیف ایچ آر او نعیم شورو نے ادارے میں میرٹ، شفافیت اور نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جن میں مبینہ طور پر 400 سے زائد گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق انہی اقدامات سے متاثر ہونے والے بعض عناصر اب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نعیم شورو کے خلاف منظم بدنامی کی مہم چلا رہے ہیں۔
نمائندوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی مبینہ طور پر بدانتظامی، غیر حاضری اور گھوسٹ ملازمین کی وجہ سے شدید متاثر رہی۔ ان کے مطابق ایسے متعدد افراد موجود تھے جو ادارے میں ڈیوٹی انجام نہیں دیتے تھے یا دیگر مقامات پر ملازمت کرتے ہوئے یہاں سے بھی تنخواہیں اور مراعات لیتے رہے، جس سے ادارے کے مالی وسائل اور مجموعی کارکردگی کو نقصان پہنچا۔
شہری نمائندوں کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی اقدامات کے بعد بعض مفاد پرست عناصر اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کے لیے چیف ایچ آر او نعیم شورو کے خلاف منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کے مطابق جو ملازمین قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کیے بغیر تنخواہوں اور مراعات کا مطالبہ کرتے ہیں، ایسے گھوسٹ ملازمین کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، جبکہ ادارہ صرف میرٹ، قانون اور عوامی مفاد کے مطابق چلنا چاہیے۔
سول سوسائٹی نے حکومت سندھ، متعلقہ حکام اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحاتی عمل کو ہر صورت جاری رکھا جائے، گھوسٹ ملازمین اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ ادارے کی ساکھ اور عوامی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
نمائندوں نے مزید بتایا کہ نعیم شورو نے محکمہ بہبودِ آبادی سے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن حیدرآباد میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کے مطابق ان کی تعیناتی کا مقصد ادارے میں اصلاحات لانا، انتظامی نظام کو بہتر بنانا، میرٹ کو فروغ دینا اور شہریوں کو صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
سول سوسائٹی کے مطابق نعیم شورو کی بطور چیف ایچ آر او تعیناتی کے بعد ادارے میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری کے ساتھ ساتھ فیس ریکگنیشن پر مبنی حاضری نظام بھی نافذ کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد شفاف حاضری، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور ادارے کی مجموعی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ انہی اصلاحات کے باعث مبینہ گھوسٹ اور غیر حاضر ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں چیف ایچ آر او نعیم شورو کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم سول سوسائٹی نے اس مہم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اصلاحاتی عمل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔


