پشاور(ایچ آراین ڈبلیو) خیبر پختونخوا میں سرکاری دفاتر کے اندر تشدد کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا کے ایڈمنسٹریٹر کے دفتر میں فکسڈ پے پر کام کرنے والے ایک ملازم نے کلاشنکوف سے مسلح ہو کر دھاوا بول دیا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے دفتر میں داخل ہوتے ہی فائرنگ کر کے شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ واقعے کے دوران انچارج اسمارٹ اٹینڈنس اور سپرنٹنڈنٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کمپیوٹرز اور مانیٹرز پر وار کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حملے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فکسڈ پے کمپیوٹر آپریٹر کی غیر حاضری پر تنخواہ روکی گئی تھی، جس پر وہ مشتعل ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم جمعہ کے روز دفتر میں داخل ہوا، گالی گلوچ کی اور انچارج اسمارٹ اٹینڈنس پر تشدد کیا، پھر سرکاری آلات کو نقصان پہنچایا۔
واقعے کے بعد پولیس کو اطلاع دے دی گئی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ زخمی اہلکاروں کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


