ملتان(ایچ آراین ڈبلیو)حکمرانوں اور ضلعی انتظامیہ کو کرنا چاہیے تھا، وہ پاکستان کے سابق لیجنڈ کرکٹر سعید انور نے خود کر دکھایا اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کر دی۔
چند روز قبل ملتان کے ایک 60 سالہ بزرگ خالد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا گیا کہ ان کا جوان بیٹا انتقال کر گیا تھا مگر غربت کے باعث وہ اپنے بیٹے کے لیے کفن تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور بیٹے کو بغیر کفن کے دفنانے کے لیے قبرستان لے جا رہے تھے۔ یہ دلخراش منظر دیکھ کر پورا ملک غمزدہ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق جب یہ خبر سعید انور تک پہنچی تو وہ آبدیدہ ہو گئے اور کافی دیر تک سر جھکا کر روتے رہے۔ گزشتہ روز سعید انور اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ اس نادار بزرگ کے گھر ملتان پہنچے۔ بزرگ کا گھر کچی اینٹوں سے بنا ہوا تھا جہاں شدید گرمی کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔ گھر میں بزرگ کی اہلیہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں موجود تھیں۔
سعید انور نے موقع پر سب سے پہلے خاندان کے لیے سولر سسٹم کا انتظام کروایا اور گھر میں اسٹینڈ والے پنکھے لگوائے تاکہ شدید گرمی سے کچھ ریلیف مل سکے۔ اس کے بعد انہوں نے بزرگ خالد کو یقین دلایا کہ اس گھر کی تعمیر اب ان کی ذمہ داری ہے۔ سعید انور نے ملتان میں اپنے قریبی دوست کو تین کمروں پر مشتمل پکے گھر کی تعمیر کی ذمہ داری سونپ دی۔
اس موقع پر سعید انور نے بزرگ خالد کو پانچ لاکھ روپے نقد بھی دیے اور کہا کہ “اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے گا، آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔”
سعید انور کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر صاحبِ حیثیت افراد آگے بڑھیں تو معاشرے کے کئی دکھ کم ہو سکتے ہیں۔


