بھکر(ایچ آراین ڈبلیو)بھکر کے علاقے کلم کلاں سے تعلق رکھنے والے محمد عارف اور فرمان علی، جنہیں ماضی میں قبروں سے لاشیں نکال کر انسانی گوشت کھانے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا، اپنی سزا مکمل کرنے کے باوجود اب تک آزادی حاصل نہ کر سکے۔ یکم جولائی 2026 کو دونوں بھائیوں کی 11 سال 4 ماہ قیدِ با مشقت کی سزا مکمل ہو گئی، تاہم انہیں عام آبادی میں واپس نہیں بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق شدید عوامی ردِعمل، ممکنہ ہجوم کے حملے اور امن و امان کی صورتحال کے خدشات کے پیشِ نظر دونوں افراد کو ایک نامعلوم اور محفوظ مقام پر سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
کیس کی مختصر ٹائم لائن کے مطابق:
2011 میں دونوں بھائیوں کو قبروں سے لاشیں نکال کر انسانی گوشت کھانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ 2013 میں پہلی سزا مکمل ہونے پر انہیں رہا کیا گیا، تاہم 2014 میں ایک نومولود بچے کی قبر کشائی اور انسانی گوشت کھانے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اسی سال عدالت نے دونوں کو 11 سال 4 ماہ قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ ایک اہم قانونی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی عدالتی سزا مکمل کر لے تو کیا ریاست عوامی تحفظ یا خود اس شخص کی جان کے تحفظ کے لیے اس کی آزادی مزید محدود کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے غیر معمولی حالات میں ریاست کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔
دوسری جانب شہری حلقوں میں اس معاملے پر ملا جلا ردِعمل پایا جاتا ہے، جہاں کچھ افراد عوامی تحفظ کو ترجیح دینے کے حق میں ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک سزا مکمل ہونے کے بعد کسی شہری کو مزید حراست میں رکھنا قانونی و آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔


