سیالکوٹ(ایچ آراین ڈبلیو)سیالکوٹ میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈسکہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خاتون ملازمہ کو مبینہ طور پر ہراسانی کا نشانہ بنانے کے الزام پر عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم ایس اور خاتون ملازمہ کے درمیان مبینہ ہراسانی سے متعلق متعدد آڈیو ریکارڈنگز سامنے آئی ہیں، جس کے بعد معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ آڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر نوٹس لیا۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی سفارش کر دی ہے، جبکہ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ کی روشنی میں مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارے میں خواتین کو ہراسانی کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے معاملات میں زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ سیالکوٹ میں پیش آیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


