26

جامعہ کراچی میں ڈیجیٹل سوسائٹی اور سماجی تبدیلی پر بین الاقوامی کانفرنس

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) جامعہ کراچی کے شعبۂ تعلیم نے گلوبل نیکسس فار ریسرچ کے اشتراک سے ’’ڈیجیٹل سوسائٹی اور سماجی تبدیلی‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس منگل کے روز چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تعلیم اور جدت کے ذریعے سماجی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سندھ ایجوکیشن پالیسی کمیشن اور اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ سندھ کے نمائندے ڈاکٹر آفتاب احمد شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبائی ضروریات اور قومی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع تعلیمی پالیسی ماڈل تیار کیا ہے، جو سندھ کی ثقافت، جغرافیہ، صنعتی ضروریات اور ماحولیاتی حالات سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے لیے ذیلی سطح پر بھی پالیسیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب احمد شیخ کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری سماجی مسائل کی نشاندہی، عملی حل کی تیاری، مؤثر پالیسی سازی، ان پر عملدرآمد، مسلسل نگرانی اور نتائج کی روشنی میں جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو اکثر سہولت یا شارٹ کٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مضبوط نظریاتی بنیاد اور واضح حکمت عملی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 41 ہزار سے زائد سرکاری اور 12 سے 13 ہزار نجی اسکول موجود ہیں، جہاں تقریباً 90 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں، اس کے باوجود 76 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔

اس موقع پر وائس چانسلر University of Karachi پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ سماجی تبدیلی میں تعلیم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، آگاہی، جدت، تخلیق اور اختراع کے بغیر سماجی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تعلیم کو اس کا جائز مقام نہیں دیا گیا اور وفاقی بجٹ میں صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کو مناسب توجہ نہیں ملی۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال تک محدود نہ رہیں بلکہ ڈیجیٹل اخلاقیات اور حدود سے بھی مکمل آگاہی حاصل کریں۔

کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل جدت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے معاشرے میں مثبت سماجی تبدیلی لانے کے لیے تحقیق اور پالیسی سازی کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں