4

جسے شوق ہے وہ نئے صوبوں کی قرارداد اسمبلی میں لے آئے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی:(ایچ آراین ڈبلیو)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جسے نئے صوبے بنانے کا شوق ہے وہ اس حوالے سے قرارداد سندھ اسمبلی میں لے آئے، ممکن ہے کل اسمبلی میں نئے صوبوں کی مخالفت میں قرارداد منظور ہوجائے۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی میں افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیا اور کہا کہ ہمارے اداروں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ اس معاملے پر بات ہونی چاہیے کہ نئے صوبوں کے قیام کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط اور اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ دوسرے صوبوں کو بھی اپنے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی اس سے قبل بھی 6 مرتبہ نئے صوبوں کی مخالفت میں قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ ممکن ہے کل اسمبلی میں بھی نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور ہوجائے۔ جس کو شوق ہے وہ قرارداد اسمبلی میں لے آئے۔

### سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید سہولیات

وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید سہولیات کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔ نئی سہولیات سے جانوروں کی صحت، تحقیق اور بیماریوں کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک سندھ کی معیشت کا اہم ستون اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ یہ شعبہ غذائی تحفظ، روزگار اور دیہی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صحت مند مویشی، بہتر پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت سندھ جانوروں کی صحت اور ویٹرنری خدمات کے فروغ کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کررہی ہے۔

### پالتو جانوروں کے لیے جدید طبی سہولیات

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جدید پیٹ اسپتال میں علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور تشخیص کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جہاں پالتو جانوروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی سہولیات میسر ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ نئے تشخیصی و تحقیقی کمپلیکس میں ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ جدید لیبارٹریز سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، نگرانی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مؤثر تشخیصی نظام دودھ اور گوشت کے معیار اور فوڈ سیفٹی کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

### ویٹرنری تعلیم اور تحقیق کا فروغ

مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ ویٹرنری ماہرین اور محققین کی نئی نسل تیار کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے۔ اکیڈمک بلاک سے ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع مزید بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تشخیص کا مرکز بنایا جائے گا۔ تشخیصی لیبارٹریز کو مزید جدید بنانے کے ساتھ ویکسین کی تیاری کی صلاحیت بھی مستحکم کی جائے گی۔

### کسانوں تک جدید سہولیات کی فراہمی

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ موبائل ویٹرنری سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک سہولیات پہنچائی جائیں گی۔ تحقیق کو ہاریوں کے عملی مسائل اور ضروریات کے حل سے براہِ راست جوڑا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لائیو اسٹاک کے جدید اور پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ سندھ کی مقامی اور قیمتی مویشی نسلوں کا تحفظ بھی زرعی ترجیحات میں شامل ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مضبوط لائیو اسٹاک شعبہ، مستحکم دیہی معیشت اور خوشحال سندھ ہمارا عزم ہے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ملک کے لیے ایک مثالی ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔

### انسانی حقوق و عوامی مفاد:

نئے صوبوں اور بلدیاتی نظام سے متعلق فیصلوں میں عوامی رائے، انتظامی ضروریات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح لائیو اسٹاک اور ویٹرنری شعبے میں جدید سہولیات سے کسانوں، مویشی پال افراد اور دیہی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

### HRNW Support Appeal:

انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور مستند خبروں کی فراہمی کے لیے HRNW کے ساتھ تعاون کریں۔

### Disclaimer:

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ ذرائع کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سیاسی بیانات اور حکومتی منصوبوں سے متعلق تفصیلات میں متعلقہ حکام کے آئندہ اعلانات کے مطابق تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں