اسلام آباد:(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز اسپتال میں 14 بچوں کی اموات حادثہ ہے، احتساب ان سے شروع ہونا چاہیے، ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کا بھی مسئلہ ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم سے فائر سیفٹی اور ٹریننگ سمیت کئی معاملات پر بات ہوئی ہے۔ ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کا بھی مسئلہ ہے، جبکہ پمز اسپتال کا حادثہ انتظامی یونٹس سے متعلق ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 بچوں کی اموات حادثہ ہے، وزیراعظم یا وفاقی وزیر کا کام اسپتال کو دیکھنا نہیں ہونا چاہیے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دینے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دوسرے دروازے پر گارڈ کی 24 گھنٹے ڈیوٹی ہے، اسی دروازے سے نومولود چوری ہوتے تھے۔ انخلا کے راستے میں بھی گارڈ کی ڈیوٹی ہے اور وہ 24 گھنٹے وہاں موجود ہوتے ہیں۔ بچوں کے چوری ہونے کی وجہ سے ایک دروازے پر گارڈ تعینات کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بدھ کی صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی۔
اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے، لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوسکی جبکہ 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔
### انسانی حقوق و عوامی مفاد:
اس المناک واقعے میں نومولود بچوں کی اموات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا، تربیت یافتہ عملے اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا عوام کے بنیادی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
### HRNW Support Appeal:
انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور مستند خبروں کی فراہمی کے لیے HRNW کے ساتھ تعاون کریں۔
### Disclaimer:
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ ذرائع کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات اور سرکاری رپورٹس کی روشنی میں مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر میں تبدیلی ممکن ہے۔


