کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان تحریک انصاف کی ذیلی ونگ انصاف لائرز فورم کراچی کے سینئر رہنما اور معروف قانوندان حسنین علی چوہان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی آلودگی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور غفلت کا واضح ثبوت ہیں۔ خاص طور پر سندھ میں جنگلات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی ماحولیاتی تباہی کی بڑی وجہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں لاکھوں ایکڑ جنگلاتی اراضی پر قبضہ ہو چکا ہے، لیکن حکومت قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
حسنین علی چوہان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے شجرکاری اور گرین انفراسٹرکچر پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ سندھ میں اس حوالے سے کوئی میگا منصوبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگلات ختم ہوتے رہے اور شہروں کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جاتا رہا تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی بدقسمتی سے کنکریٹ کا شہر بنتا جا رہا ہے، جہاں گرین بیلٹس، پارکس اور درختوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہر کا درجہ حرارت ہر سال بڑھ رہا ہے اور شدید گرمی و حبس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کو قومی ایمرجنسی قرار دیں، جنگلاتی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر مطالبہ کیا کہ کراچی میں کم از کم 10 لاکھ ماحول دوست اور مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں تاکہ درجہ حرارت میں کمی، فضائی آلودگی پر قابو اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔


