سرگودھا(ایچ آراین ڈبلیو)ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منتہا زہرہ کیس سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ حنیف کریانہ اسٹور کے مالکان کے ساتھ پولیس کی کوئی رشتہ داری ہے اور نہ ہی ارسلان کے ساتھ سی سی ڈی کی کوئی دشمنی ہے۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس کے پاس تمام شواہد موجود ہیں اور معاملے میں کچھ بھی غلط نہیں ہوا۔
ڈی پی او صہیب اشرف نے منتہا زہرہ کے والد اور چچا کی موجودگی میں واقعے کی مکمل ٹائم لائن بیان کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے والے روز صبح ساڑھے پانچ بجے دکان کھلی، مالک اور اس کا بیٹا دکان پر موجود تھے۔ بچی صبح سات بجے کے قریب دکان پر آئی، کوئی چیز لی اور واپس چلی گئی۔ صبح نو بجے سے کچھ دیر قبل ارسلان اپنی ڈیوٹی پر آیا جبکہ اسی وقت دو دیگر ملازمین بھی پہنچ گئے۔
ڈی پی او کے مطابق گیارہ بج کر چار منٹ پر بچی دوبارہ دکان پر آئی اور اس کے بعد لاپتہ ہوگئی۔ گیارہ بج کر چالیس منٹ پر والدہ نے اہلِ محلہ کے ساتھ تلاش شروع کی، بعد ازاں بچی کے والد کو بھی اطلاع دی گئی جو کام سے واپس پہنچے اور پولیس کو مطلع کیا گیا۔ پولیس موقع پر پہنچی تو اس وقت ارسلان غائب ہو چکا تھا، تاہم پولیس نے اسے ٹریپ کر کے گرفتار کر لیا، جبکہ دکان پر موجود دیگر چار افراد وہیں رہے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ جب پولیس نے بچی کی لاش دکان کی چھت سے برآمد کی تو اس کے بعد دکان کے مالک حنیف، اس کے بھتیجے ارسلان اور دو دیگر ملازمین سمیت تمام پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ٹیم نے ابتدائی بیانات ریکارڈ کیے، جن میں ارسلان کے بیان سے واقعہ واضح ہوگیا اور وہی مرکزی ملزم ثابت ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ملزمان کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ فارنزک رپورٹس، ڈی این اے اور ٹیکنیکل ٹیم کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد دیگر افراد کے کردار کا حتمی تعین کیا جائے گا۔
ڈی پی او صہیب اشرف کے مطابق پولیس نے ارسلان کو انجام تک پہنچانے کے لیے کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کیا۔ ملزم نے پولیس سے فرار کی کوشش کی اور سی سی ڈی کے ساتھ کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ارسلان کا مجرم ہونا کنفرم ہو چکا تھا، تاہم کچھ شرپسند عناصر محض سوشل میڈیا پر ویوز کے لیے بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈی پی او نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ منتہا زہرہ کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ ہم سب کی بیٹی تھی، اور پولیس اس کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن قانونی کارروائی کرے گی۔


