کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں عائد پٹرولیم لیوی ایک انتہائی ریگریسو (Regressive) ٹیکس ہے، جس کا بوجھ بنیادی طور پر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استعمال ہونے والے پٹرول کا تقریباً 50 سے 60 فیصد حصہ موٹرسائیکل سوار استعمال کرتے ہیں، جو فی لیٹر تقریباً 100 روپے مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی مد میں ادا کرتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی کا بڑا حصہ سرکاری خزانے میں چلا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکے روز جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر (AERC) کے زیر اہتمام سینٹر ہذا کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار “بجٹ 2026-27: تجزیہ، چیلنجز اور امکانات” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نےمزید کہا کہ جس ملک میں پروونشل فنانس کمیشن (PFC) مؤثر انداز میں موجود نہ ہو اور صوبے مالی وسائل مقامی حکومتوں تک منتقل نہ کر رہے ہوں، وہاں نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کی افادیت بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے وسائل کو مقامی حکومتوں اور عوام تک منتقل نہیں کرتے اور اختیارات اپنی سطح پر ہی مرکوز رکھتے ہیں تو چار مختلف سطحوں پر اجارہ داری قائم کرنے کے بجائے ایک ہی سطح پر مرکزیت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کئی معاشی اور سماجی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستانی عوام کی حقیقی آمدنی میں مسلسل کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق 2010ء سے قبل شرح خواندگی میں بہتری آ رہی تھی، تاہم بعد ازاں صورتحال بگڑ گئی۔ سندھ میں پانچویں جماعت کے تقریباً 60 فیصد طلبہ دوسری جماعت کی سطح کا سبق روانی سے نہیں پڑھ سکتے، جو تعلیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت، غذائیت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں بھی پاکستان خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکا۔ غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد تشویشناک ہے جبکہ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی بجلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک بجلی کے نرخ کم نہیں ہوں گے، ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1990ء میں پاکستان اور ویتنام کی برآمدات تقریباً برابر تھیں، مگر آج ویتنام کی برآمدات 400 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی صرف 30 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔
سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور معروف ماہر معیشت ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کا حساب نہیں بلکہ درمیانی مدت کی قومی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بجٹ سازی کو قومی پالیسیوں سے مؤثر انداز میں مربوط نہیں کیا گیا، جس کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی، صنعتی، تعلیمی اور صحت کی پالیسیوں کو مطلوبہ مالی وسائل سے منسلک کیے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2010-11ء کے این ایف سی ایوارڈ میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح پانچ برس میں 15 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن پندرہ برس بعد بھی یہ تقریباً 11 فیصد کے قریب ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہداف کے ساتھ مؤثر عمل درآمد اور نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد ایسا مؤثر ادارہ جاتی نظام موجود نہیں جو وسائل، اہداف اور نتائج کی مسلسل نگرانی کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم نیشنل اکنامک کونسل کو فعال بنایا جائے، اس کے سہ ماہی اجلاس ہوں، ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کی جائے اور بروقت اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی پالیسی کا سائنس، تحقیق اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مؤثر ربط نہ ہونے کے باعث جامعات کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے، ای فائلنگ، مربوط ڈیٹا بیس اور جدید ویب پورٹلز متعارف کرائے جائیں تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہو۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔ کراچی کے کے فور واٹر سپلائی منصوبے سمیت متعدد اہم منصوبے انتظامی پیچیدگیوں اور بروقت فیصلوں کے فقدان کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو تعلیم کے شعبے کو بجٹ میں اولین ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ تعلیم پر خرچ درحقیقت مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بڑھتی ہوئی آبادی اور محدود وسائل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم بڑی حد تک آبادی کی بنیاد پر ہونے سے آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک آبادی کو متوازن رکھ کر معاشی ترقی حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کبھی بھی حقیقی قومی ترجیح نہیں رہی، حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تعلیم اور صحت پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا ہے تو تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی پالیسی کا بنیادی ستون بنانا ہوگا۔
اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نورین مجاہد نے کہا کہ بجٹ صرف آمدنی اور اخراجات کا سالانہ تخمینہ نہیں بلکہ حکومت کی معاشی ترجیحات، اقتصادی حکمت عملی اور قومی ترقی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کا مقصد وفاقی بجٹ کا جائزہ لینے کے ساتھ حکومتی معاشی پالیسیوں کا تنقیدی اور غیرجانبدارانہ تجزیہ کرنا ہے تاکہ ان کے معاشی ترقی، مہنگائی، بے روزگاری، اعلیٰ تعلیم اور مالیاتی نظم و نسق پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
سیمینار میں سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈاکٹر محمد صابر نے بجٹ 2026-27ء پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جبکہ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید اور اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کے ڈاکٹر عامر حسین نے بھی خطاب کیا۔


