25

لیاقت یونیورسٹی ہسپتال میں میموگرافی مشین سات ماہ سے بند،مریض خواتین شدید مشکلات کا شکار

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد (سول ہسپتال) میں میموگرافی مشین کی گزشتہ سات ماہ سے مسلسل بندش پر ناصر حسین قریشی، حق پرست رکن صوبائی اسمبلی سندھ، نے شدید تشویش اور سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

انتظامیہ کی غفلت پر شدید ردعمل

ناصر حسین قریشی کا کہنا ہے کہ میموگرافی مشین کی طویل بندش ہسپتال انتظامیہ کی سنگین غفلت، بدانتظامی اور ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میموگرافی مشین بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے نہایت اہم اور جان بچانے والا طبی آلہ ہے، مگر اس کی مسلسل بندش کے باعث سینکڑوں غریب اور مستحق خواتین شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔

غریب خواتین نجی مراکز کا رخ کرنے پر مجبور

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین یا تو مہنگے نجی تشخیصی مراکز جانے پر مجبور ہیں یا بغیر تشخیص واپس لوٹ رہی ہیں، جو صحت کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی خاموشی پر سوالات

ناصر حسین قریشی نے مزید کہا کہ اس اہم طبی سہولت کی بندش ایک ادارہ جاتی ناکامی کے ساتھ ساتھ مجرمانہ غفلت کی عکاس ہے، جبکہ محکمہ صحت سندھ کی خاموشی اور عدم دلچسپی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

حق پرست رکن صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت سندھ اور سیکریٹری صحت سندھ سے فوری اور ہنگامی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میموگرافی مشین کو فوری طور پر فعال کیا جائے، ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کی جائے، طبی آلات کی مرمت اور دیکھ بھال کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے اور سول ہسپتال حیدرآباد کی مجموعی کارکردگی کا آڈٹ کیا جائے۔

صحت سے غفلت ناقابلِ برداشت قرار

ناصر حسین قریشی نے کہا کہ صحت کا شعبہ عوام کی زندگی اور موت سے جڑا ہوا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کرپشن ناقابلِ برداشت ہے۔ عوام کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا ریاستی ذمہ داریوں میں ناکامی کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں