103

گلستانِ جوہر میں 400 گز کے رہائشی پلاٹ پر مبینہ غیرقانونی فلیٹس کی تعمیر، ایس بی سی اے افسران ریاض جاکھرو، عابد شاہ کی سرپرستی، عدالت جانے کی تیاری

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو/ رپورٹ روحیل صدیقی)** کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک 11 میں واقع پلاٹ نمبر **B-148/A**، نزد مسجد حمزہ، پر 400 گز کے رہائشی پلاٹ پر مبینہ طور پر بغیر منظور شدہ نقشے کے غیرقانونی فلیٹس کی عمارت تعمیر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ شکایت گزار کے مطابق مذکورہ عمارت اس وقت **G+2** کی سطح تک تعمیر ہو چکی ہے جبکہ بلڈر مزید تین منزلیں تعمیر کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو سندھ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ قوانین اور متعلقہ تعمیراتی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔

شکایت کے مطابق رہائشی پلاٹ کو مبینہ طور پر کمرشل طرز پر فلیٹس کی فروخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ لازم اوپن اسپیس (Compulsory Open Space) سمیت دیگر قانونی تقاضے بھی نظر انداز کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ **سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)** کے بلڈنگ انسپکٹر **ریاض جاکھرو** اور بلڈنگ انسپکٹر **عابد شاہ** کی مبینہ سرپرستی اور غفلت کے باعث یہ تعمیرات جاری ہیں، جس سے نہ صرف تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ سرکاری ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق تعمیراتی قوانین کے ماہر **ندیم احمد جمال ایڈووکیٹ** نے ایک شہری کی درخواست پر **SBCA** کے آن لائن شکایتی نظام (SCRM) میں **شکایت نمبر SCRM-20260617-14** درج کروا دی ہے۔ شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو مسمار کیا جائے اور ذمہ دار افسران و بلڈر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ **SBCA** کا آن لائن SCRM نظام شہریوں کو تعمیراتی خلاف ورزیوں کی شکایات درج کرانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

درخواست گزار نے خبردار کیا ہے کہ اگر **30 دن** کے اندر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو **سندھ ہائی کورٹ** میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ ذمہ دار اداروں کو قانونی فرائض کی انجام دہی کا پابند بنایا جا سکے۔ ماضی میں بھی عدالتیں غیرقانونی تعمیرات اور ان پر کارروائی نہ ہونے کے معاملات میں متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرتی رہی ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر نہ صرف شہری منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ نکاسی آب، ٹریفک، پارکنگ، آگ سے تحفظ اور عمارتوں کی ساختی سلامتی جیسے سنگین مسائل کو بھی جنم دے رہی ہے۔ شہریوں نے حکومت سندھ، ڈائریکٹر جنرل **SBCA**، اینٹی کرپشن اداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ شکایت کی شفاف تحقیقات کر کے اگر خلاف ورزیاں ثابت ہوں تو ذمہ دار بلڈر اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں