کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو)کوئٹہ کی مقامی عدالت نے 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوار کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتولہ کے والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزا کا حکم دیا۔
یہ افسوسناک واقعہ 2025 میں کوئٹہ میں پیش آیا تھا، جہاں حرا انوار کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق مقتولہ کے والد نے ابتدائی تفتیش میں قتل کا اعتراف کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور طرزِ زندگی پر اعتراض تھا۔
یہ کیس ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنا رہا۔ خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا تھا اور ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی حلقوں کی جانب سے انصاف کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقتولہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے معاشرے میں ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔


