کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) انصاف لائرز فورم کراچی ڈویژن کے سینیئر رہنما اور معروف قانوندان ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے سندھ میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں پانی کی قلت 50 فیصد سے تجاوز کر جانا پیپلزپارٹی کی 18 سالہ نااہلی اور ناقص حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اقتدار کی خاطر سندھ کے وسائل کا سودا کیا اور آج سندھ کے عوام اور کاشتکار اس کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ پانی کی شدید کمی کے باعث سندھ کی زرعی زمینیں سوکھ رہی ہیں، فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سندھ کے کاشتکار اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ان کے جائز مطالبات اور احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ کراچی سے کشمور اور کارونجھر سے تھر نگرپارکر تک عوام پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، مگر سندھ حکومت صرف بیانات تک محدود ہے اور عملی طور پر عوام کے حقوق کے لیے کوئی مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی نہ ہی وفاق سے علیحدگی اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو 50 فیصد کم پانی ملنے کے باعث کراچی کی تقریباً 70 فیصد آبادی پانی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ کراچی پورے صوبے کو 90 فیصد سے زائد ریونیو فراہم کرتا ہے، لیکن افسوس کہ پیپلزپارٹی کی نااہل حکومت شہریوں کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سندھ کو اس کے حصے کا مکمل پانی فراہم نہ کیا گیا تو صوبے کی زرعی زمینیں بنجر ہو جائیں گی، کاشتکار معاشی تباہی کا شکار ہوں گے اور صوبے کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی 18 سالہ ناقص حکمرانی نے سندھ کے انفراسٹرکچر، زراعت اور شہری سہولیات کو تباہ کر دیا ہے۔ عوام اب اس حکومت کی کارکردگی سے مایوس اور بیزار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے پانی کے مسئلے پر فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں اور صوبے کو اس کا آئینی و قانونی حق دیا جائے۔


