26

کمسن بچیوں کی جبری شادیوں کے خلاف خاتون پریس کلب پہنچ گئیں

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد میں کمسن بچیوں کی مبینہ جبری شادیوں کے خلاف ایک متاثرہ خاتون نے اپنی بیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر کے انصاف کی اپیل کی ہے۔ مسمات عزیزہ پنہور اپنی بیٹی جیلان کے ساتھ حیدرآباد کے حیدرآباد پریس کلب پہنچیں، جہاں انہوں نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران عزیزہ پنہور نے الزام عائد کیا کہ شوہر عبدالغفور پنہور کے انتقال کے بعد ان کے بھائی شیر پنہور اور اس کے بیٹے جان ان کے دشمن بن گئے اور ان کی دو کمسن بیٹیوں کی زبردستی شادیاں کرا دی گئیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق 10 سالہ مریم اور 14 سالہ بلقیسہ کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی۔

عزیزہ پنہور نے انکشاف کیا کہ 10 سالہ مریم کی شادی 9 سالہ بچے سے زبردستی کروائی گئی، جو کہ سنگین انسانی اور قانونی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ان کی بیٹی جیلان کو رسول بخش نامی شخص کے ہاتھ تین لاکھ روپے میں فروخت کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

متاثرہ خاتون اور ان کی بیٹی جیلان نے دعویٰ کیا کہ انہیں شدید جان کے خطرات لاحق ہیں اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے ایس ایس پی حیدرآباد اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عزیزہ پنہور کا کہنا تھا کہ اگر انہیں انصاف اور تحفظ نہ ملا تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں