سنجھورو(ایچ آراین ڈبلیو) سنجھورو راجپوت محلہ کی رہائشی 80 سالہ مسمات محمودن بیوہ راؤ لیاقت علی اپنی بیٹیوں کے ہمراہ مبینہ ظلم و زیادتی کے خلاف انصاف کے لیے پریس کلب پہنچ گئیں۔
متاثرہ خاندان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شوہر کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے راؤ جاوید عرف تاؤ نے اپنے بھائیوں کرامت علی اور محمد عمراں کے ساتھ مل کر مرحوم کی جائیداد اور نقدی پر قبضہ کر رکھا ہے اور گزشتہ پانچ سال سے ان کا حق دبایا جا رہا ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ حق مانگنے پر انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے انصاف کے لیے عدالت، ایس ایس پی، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار سنجھورو کے دفاتر سے رجوع کیا، تاہم بار بار شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کی جانب سے ان کے حق میں فیصلہ بھی سنایا جا چکا ہے، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اور وہ گزشتہ دو سال سے فرسٹ سینئر سول جج سانگھڑ کی عدالت کے چکر لگا رہے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر مایوس ہو کر میڈیا کے ذریعے انصاف کی اپیل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
مسمات محمودن اور ان کی بیٹیوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈپٹی کمشنر سانگھڑ سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں ان کا جائز حق دلوایا جائے۔


