پاکستان ریلوے کا بڑا فیصلہ: ریلوے حدود میں فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی پر پابندی، اسٹیشنز ‘حساس’ قرار

**لاہور/کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** پاکستان ریلوے نے قومی اثاثوں کی حفاظت اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشنز، پلیٹ فارمز اور یارڈز میں بغیر اجازت خبر سازی، فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کو جرم قرار دے دیا ہے۔ ریلوے حکام کی جانب سے صحافیوں، وی لاگرز، بلاگرز اور عام عوام کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

نئے قواعد کے تحت ریلوے اسٹیشن، پلیٹ فارم اور یارڈز کو **حساس** قرار دے دیا گیا ہے۔ اب ریلوے کی حدود میں کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ، منظر کشی یا اشاعت کے لیے انتظامیہ سے تحریری اجازت لینا لازمی ہوگا۔ بغیر اجازت ویڈیو بنانے یا تصاویر کھینچنے والوں کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

**اہم ہدایات اور پابندیاں:**
* **داخلے پر پابندی:** پلیٹ فارم پر داخلہ صرف سفر کے ٹکٹ یا پلیٹ فارم ٹکٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔
* **ممنوعہ حصے:** انجن، بریک وین اور دیگر آپریشنل حصوں میں صرف مجاز عملے (Authorized Staff) کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
* **غیر قانونی عبور:** ریلوے یارڈ اور پٹری کو عبور کرنا جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر جرمانہ یا سزا ہو سکتی ہے۔
* **سوشل میڈیا صارفین کے لیے وارننگ:** وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ ریلوے حدود میں کسی بھی سرگرمی سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کریں۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے اور ریلوے کی تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ عوام اور میڈیا کے نمائندوں سے ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

**اپیل برائے تعاون:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے والے دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کی حمایت کریں۔ آپ کے تعاون سے ہم سچائی کی ترویج اور مظلوموں کی آواز بننے کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں