اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور تاریخی و ثقافتی ورثے کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یونیسکو کے تحت ورثے کے تحفظ کی عالمی اہمیت اجاگر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدیم تہذیبوں کا مرکز ہے جہاں سنگی دور سے مغلیہ عہد تک ایک تاریخی تسلسل موجود ہے۔ صدر نے موہن جو داڑو اور مہر گڑھ کو قومی شناخت کی بنیاد قرار دیا۔
صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے فن پارے عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ورثہ صرف تاریخ نہیں بلکہ روزگار اور معیشت کا بھی اہم ذریعہ ہے، جبکہ سیاحت کے فروغ میں تاریخی مقامات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور مقامی برادریوں پر زور دیا کہ وہ ورثے کے تحفظ میں فعال کردار ادا کریں۔ صدر نے کہا کہ جدید تکنیکوں کے ذریعے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت پُرعزم ہے اور یہ قومی ذمہ داری کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے بھرپور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کی طرح اس دن کو مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کے ساتھ منا رہا ہے اور اس میدان میں خدمات انجام دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ثقافتی ورثہ انسانی تہذیب کے ماضی کی حفاظت، حال کی عکاسی اور مستقبل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا ثقافتی ورثہ قدیم تہذیبوں اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا حسین امتزاج ہے جو قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تاریخی مقامات کو یونیسکو کی عالمی فہرستوں میں شامل کرانے کے لیے کوشاں ہے اور ڈیجیٹل ثقافتی پلیٹ فارمز کے ذریعے ورثے کی دستاویز بندی اور تحفظ پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے سیاحت اور ثقافتی سفارت کاری کو بھی فروغ ملے گا۔


