پشاور(ایچ آراین ڈبلیو) پشاور ہائیکورٹ میں ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے اسے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم رکھنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت دو رکنی بینچ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس صادق علی مومند نے کی۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔
درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 21 فروری 2025 کو اسٹیدیم کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دی، جو ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی گائیڈ لائن کے خلاف ہے۔ وکیل کے مطابق عوامی اثاثوں کو کسی زندہ شخص کے نام سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور پشاور ہائیکورٹ و بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے تو کوئی نیا سٹیڈیم تعمیر کرے اور اس کا نام رکھے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ رپورٹ جمع کرائی جائے تو کیس کی مزید سماعت ہوگی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم 1984 میں تعمیر ہوا اور اس کا پہلا نام شاہی باغ کرکٹ سٹیڈیم تھا، جو 1987 میں تبدیل کرکے ارباب نیاز رکھا گیا۔ خیبرپختونخوا لوکل کونسل رولز 1994 کے مطابق کسی جگہ کا نام رکھنے کے بعد 50 سال تک اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
علی گوہر درانی نے مزید بتایا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم خیبرپختونخوا کا واحد انٹرنیشنل کرکٹ گراؤنڈ ہے، جہاں 1984 سے 2006 تک 15 ون ڈے اور 6 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ آخری میچ فروری 2006 میں ہوا اور اس کے بعد کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں ہوا۔ 2017 میں گراؤنڈ کی مرمت کا کام شروع ہوا، اور مرمت مکمل ہونے کے بعد اس کا نام تبدیل کر دیا گیا۔
عدالت نے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور کیس کی مزید سماعت بعد میں کی جائے گی۔


