حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) ضلع ٹنڈو محمد خان میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی غیر فعال اسکیموں کے نام پر کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے خلاف مقامی شہری اور سماجی رہنما سلیم اللہ شیخ نے ہائی کورٹ حیدراباد بنچ میں پٹیشن دائر کر دی ہے آئینی پٹیشن معروف قانون دان شاہزیل میمن کے توسط سے دائر کی گئی ہے پٹیشن میں سلیم اللہ شیخ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹنڈو محمد خان ضلع بھر میں پینے کے پانی کے لیئے قائم کی گئی متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں اور ڈرینج سسٹم کی متعدد اسکیمیں طویل عرصے سے غیر فعال ہیں جن میں رورل واٹر سپلائی اسکیم جھنگ کاتیار ، جنھان سومرو ، سعید خان لونڈ ، شیخ بھرکیو ، رشیدانی ، مویا ، بلڑی شاہ کریم ، ٹنڈو غلام حیدرر اور دیگر شامل ہیں جبکہ ان غیر فعال اسکیموں کے نام پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیئے جاتے رہے ہیں پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحصیل بلڑی شاہ کریم میں زیر تعمیر واٹر سپلائی اسکیم کے ٹینک کو غیر قانونی طور پر توڑ کر قیمتی لوہا فروخت کر دیا گیا ہے اور ضلع بھر کی رورل واٹر سپلائی اسکیموں سمیت ڈرینج اسکیموں کی چار دیواریوں کو توڑ کر سرکاری اراضی کو فروخت کیا گیا ہے پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ ضلع بھر کی رورل واٹر سپلائی اسکیموں اور ڈرینج اسکیموں کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تمام ٹھیکیداروں کا ریکارڈ طلب کیا جائے جنہیں مختلف غیر فعال اسکیموں کے ٹھیکے دیکر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے پٹیشن میں سندھ حکومت ، سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، سیکرٹری بلدیات ، ڈپٹی کمشنر ٹنڈو محمد خان ، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر ، ایکسئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، ٹاؤن کمیٹی بلڑی شاہ کریم کے ایڈمنسٹریٹر اور ٹینک کو توڑنے والی کمپنی کے ٹھیکیدار ضیاء اللہ سمیت دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے


