کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) میری پہچان پاکستان (ایم۔پی۔پی) کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کا ایک اہم ہنگامی اجلاس سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی ہدایت پر مرکزی رہنما نہال صدیقی کی زیر صدارت کراچی کے ایک مقامی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا محور سندھ میں نہری منصوبے کی معطلی اور موجودہ غیر یقینی صورتحال تھا
میری پہچان پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے اجلاس میں ملک کو درپیش سنگین صورتحال پر گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئیں اور افہام و تفہیم کے ساتھ بحران کا پرامن حل تلاش کریں۔ اہم مرکزی اور صوبائی رہنماؤں نے کہا، “اس وقت ملک کو زور و زبردستی یا کسی تشدد کی نہیں بلکہ براہ راست مکالمے اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے
رہنماؤں نے واضح کیا کہ سندھی قوم پرست تنظیموں اور وکلا تنظیموں کے مسلسل احتجاج کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے مجوزہ منصوبے کو فوری طور پر معطل کردیا ہے۔ یہ حساس معاملہ اب آئندہ مشترکہ مفادات کونسل (سی۔سی۔آئی) کے اجلاس میں تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے زیر بحث لایا جائے گا۔
اگرچہ وزیراعظم اور چیئرمین پیپلز پارٹی نے مشترکہ اجلاس میں اس فیصلے کا اعلان کیا لیکن میری پہچان پاکستان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حقیقی استحکام اور بہتری کے آثار تاحال سامنے نہیں آئے۔
حکومتی اعلانات کے باوجود کراچی اور سندھ بار کونسلز کی قیادت میں خیرپور کے قریب قومی شاہراہ پر دھرنا جاری ہے جس کے باعث معاشرتی اور معاشی مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے.
بارہ ہزار سے زائد ٹرک, ڈھائی ہزار آئل ٹینکرز اور ایک ہزار سے زائد کمرشل گاڑیاں شاہراہ پر پھنس گئی ہیں۔ یومیہ معاشی نقصان کی مالیت کئی ملین روپے بتائی جا رہی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے درمیان مال برداری کا عمل مکمل طور پر بند ہو چکا ہے جس سے عوامی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
سندھ حکومت کی بارہا کوششوں اور اپیلوں کے باوجود مظاہرین منتشر نہ ہو سکے۔ بار کونسل اور وکلا راہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ نہری منصوبے کی باضابطہ منسوخی کے نوٹیفکیشن تک احتجاج جاری رہے گا۔


