کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے مشترکہ تعاون سے معروف سیاسی رہنما تاج حیدر کی یاد میں تعزیتی اجلاس آڈیٹوریم ون آرٹس کونسل میں منعقد کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کے صدر و صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ و جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سید وقار مہدی، تاج حیدر کی اہلیہ ناہید وصی، سینئر صحافی مظہر عباس، غازی صلاح الدین سمیت دیگر لوگوں نے خطاب کیا۔ تقریب کے آغاز میں سعید غنی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو ،بے نظیر بھٹو ، سینیٹر تاج حیدر سمیت تمام شہداء کے لیے فاتحہ کروائی۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ تاج حیدر نے اصولوں کی سیاست کو کبھی نہیں چھوڑا، اس میں چاہے ان کا ذاتی نقصان کیوں نہ ہو رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جس بات کو وہ پاکستان اور پارٹی کے لیے بہت اور اصولی سمجھتے تھے اس بات کو انہوں نے باندھ کر رکھا۔ انہوں نے ہمیشہ اس ملک کے اندر سپاہی خود مختاری کے لیے اپنی سیاست اور اپنی زندگی کو وقف کیا۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ تاج حیدر کے ساتھ میں نے جیل کے اندر سینیٹ کے اندر پارٹی کے اندر ، الیکشن سیل کے اندر وقت گزارا۔ میں نے تاج حیدر سے ہمیشہ سیکھا اور کوشش کی کہ ان کی بات کو آگے بڑھا سکوں یا جس طرح کی زندگی وہ بسر کر کررہے تھے ویسے گزاروں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آج بھی تاج حیدر جیسے لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز نے اپنی جانیں قربان کی مگر اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سیاست ایک نئے ڈھنگ میں نکل گئی ہے جس میں سیاسی پارٹی کھوکھلی ہو گئی ہیں، اگر ہمیں اپنی پارٹی کو قائم دائم رکھنا ہے تو پھر تاج حیدر کے مشعل راہ کو اپنانا ہوگا۔ اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ تاج حیدر پاکستان کے نامور سیاست دان، مصنف، ڈرامہ نگار، ماہرِ تعلیم، پالیسی ساز، نیشنلسٹ، بائیں بازو کی سیاست کے حامی اور مارکسسٹ دانشور تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر تاج حیدر پارٹی کی مرکزی و صوبائی عہدوں پر تعینات رہے اور آخر تک وہ پیپلز پارٹی کی مرکزی الیکشن سیل کے انچارج رہے۔ انہوں نے کہا کہ تاج حیدر عظیم رہنما تھے اور۔ ان کی پیپلز پارٹی کے لیے بڑی بہت خدمات ہیں۔ ان جیسا رہنما پاکستان پیپلز پارٹی میں تو کیا کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ سعید غنی نے کہا کہ تاج حیدر کو آپ سب جانتے ہیں، جو ان کا کردار رہا وہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاج حیدر نے بھرپور کام کیا اور ان کے انتقال کے بعد جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کے گھر گئے اور کہا کہ الیکشن سیل کا جو کام تاج حیدر کرتے تھے اب وہ کام کس سے کروائیں گے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ تاج بھائی کے بارے میں جتنا صادقہ آپا اور ناہید نے کہا بہت اچھا کہا۔ تاج حیدر پیپلز پارٹی کے ورکر تھے۔ تاج بھائی بائیں بازو کے تھے وہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ایک مثبت خواب رکھتے تھے اور ہر کسی کو برابر رکھتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ تاج حیدر ہر نسل، مذہب، زبان کو برابر رکھتے تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے اور ان کا حضرت علی اور امام حسین کا رشتہ تھا کیونکہ وہ ایک روحانی آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ تاج حیدر کوئی مشاعرہ کوئی قوالی نہیں چھوڑتے تھے۔ تاج حیدر نے ڈرامے لکھے اور کئی ڈرامے بھی کیے۔ احمد شاہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو یہ چاہتی تھی کہ جو بندہ پارٹی میں ہوں اس کو تاریخ کا معلوم ہوں، اسے معلوم ہو کہ پارٹیاں کس طرح بنتی ہیں اور ان کو مضبوط کیسے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنما کا رتبہ اعلی ترین رتبہ ہے، اکیسویں صدی کے تقاضے میں لڑائی کے لیے نئے ٹولز تھے۔ احمد شاہ نے کہا کہ تاج حیدر کو معلوم تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی کیا پاور ہے، آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ادب کی کیا پاور ہے۔ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ اسٹریٹ پاور کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کی ضرورت ہے۔ تعزیتی ریفرنس سے تاج حیدر کی اہلیہ ناہید وصی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو تاج حیدر کے ساتھ وقت گزارا وہ بے مثال تھا۔ تاج کو جو محبت اور پیار زندگی میں ملا ، اسی محبت عقیدت پیار سے وہ رخصت ہوئے۔ …


