پولیس گردی کے خلاف آپ کے قانونی حقوق

پولیس کا کام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، لیکن کیا ہو جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں؟ اگر کوئی پولیس افسر آپ سے رشوت مانگے، بلاوجہ ہراساں کرے یا جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دے، تو اکثر لوگ ڈر کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، قانون آپ کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ آپ کی پشت پر کھڑا ہے۔ آج کے پروگرام میں ہم آپ کو بتائیں گے وہ 5 طریقے، جن کے ذریعے آپ کسی بھی بااثر پولیس افسر کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتے ہیں۔”

“سب سے پہلے بات کرتے ہیں محکمہ جاتی کارروائی کی۔ اگر تھانے کا عملہ یا **SHO** آپ کی بات نہیں سن رہا، تو آپ اس کے خلاف تحریری درخواست اپنے ضلع کے **DPO** یا **SSP** کو دیں۔

ہمیشہ درخواست کی ایک کاپی اپنے پاس رکھیں اور اس پر ڈائری نمبر یا وصولی کی مہر ضرور لگوائیں تاکہ آپ کے پاس ثبوت ہو کہ آپ نے شکایت درج کروائی ہے۔” اکثر پولیس درخواست وصول نہیں کرتی ایسی صورت میں درخواست کسی کورئیر کے ذریعے ارسال کر دیں اور اس کی رسید اپنے پاس رکھیں- اس پر اگر داد رسی نہ ملے تو پھر ڈیجیٹل مدد: 15 اور 1787 ہیلپ لائن کا استعمال کریں

“اگر آپ کو فوری مدد چاہیے، تو **15** پر کال کریں۔ اس کے علاوہ، پاکستان بھر میں آئی جی (IG) آفس کا ایک بہت طاقتور نمبر ہے: **1787**۔
یہ آئی جی پنجاب یا سندھ کا براہِ راست کمپلینٹ سینٹر ہے۔ یہاں کی گئی شکایت پر کارروائی کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور متعلقہ افسر کو جواب دینا پڑتا ہے۔ آپ آن لائن **PM Portal** (پاکستان سٹیزن پورٹل) پر بھی پولیس زیادتی کی شکایت کر سکتے ہیں، جہاں براہِ راست وزیراعظم آفس سے مانیٹرنگ ہوتی ہے۔”
کچھ دن انتظار کریں اور مسئلہ حل نہ ہو تو عدالتی راستہ کریں یعنی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے پاس 22-A اور 22-B کی درخواست دائر کر سکتے ہیں، اس پر عدالت متعلقہ ایس ایچ اور ایس ایس پی کو نوٹس جاری کرے گی اور شکایت کے ازالہ یا ایف آئی آر نہ اندراج کرنے کی وجوہات دریافت کرے گی، اس درخواست کے ساتھ آپ نے پولیس اور ایس ایس پی یا ڈی پی او کو جو درخواستیں جمع کرائی ہیں وہ ضرور منسلک کریں، یہ درخواست کسی وکیل کے ذریعے دائر کریں گے تو آپ کو بہت آسانی ہو گی، اس درخواست کی سماعت پر عدالت میرٹ پر مقدمہ کا فیصلہ کرے گی

یہ سب سے اہم حصہ ہے۔ جسٹس آف پیس (جج) کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ پولیس کو فوری ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا حکم دے یا غفلت برتنے والے افسر کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کرے

“ناظرین! ظلم تب تک ہوتا ہے جب تک ہم سہتے ہیں۔ پولیس افسران آپ کے ملازم ہیں، مالک نہیں۔ اگر آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، تو آواز اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں