کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس محمد جنید غفار نے لیگل ریسرچ سیل کا افتتاح کر دیا، افتتاحی تقریب میں جسٹس ظفر احمد راجپوت، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو، جسٹس فیصل کمال آغا موجود ،
افتتاحی تقریب سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن صدر سرفراز میتلو ل، جنرل سیکریٹری مرزا سرفراز بھی موجود،
قائم مقام چیف جسٹس جنید غفار کی میڈیا سے گفتگو
ریسرچ کا منصوبہ مجھ سے پہلے سے چل رہا تھا
افتتاح میں نے کیا ہے جیسے میڈیا روم کا افتتاح کیا تھا
ریسرچ سیل بنانے کا منصوبہ سابق چیف جسٹس شفیع صدیقی صاحب کا تھا
ریسرچ سیل کے قیام سے قبل ججز کو مشکلات کا سامنا تھا
ہم نے ریسرچ سیل کے لیے سول ججز کی خدمات حاصل کی ہیں
ابتدائی طور پر نو سول ججز ریسرچ سیل میں فرائض انجام دینگے
فی الوقت سول ججز کی کمی کا سامنا ہے
مستقبل میں ہر بینچ کے لئے ایک ریسرچ آفیسر تعینات ہوگا
سول ججز کو بھی ریسرچ سیل میں سیکھنے کا موقع ملے گا
جب وہ فیلڈ میں جائیں گے تو ان کے کام آئے گا
ریسرچ کے لئے معاونت کی ضرورت پڑتی ہے
پہلے ججز خود ریسرچ کرتے تھے
ریسرچ سیل کے قیام کے بعد ججز کو سہولت ملے گی
سپریم کورٹ میں بھی ریسرچ کے لئے ریسرچ کلرک موجود ہیں
ماتحت عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار موجود ہے
پہلے نئی بھرتیاں کی جائیں گی پھر ججز کو ترقیاں دی جائیں گی
ہائی کورٹ سے تقریبا چوبیس ہزار سول کیسز ماتحت عدالتوں کو منتقل ہورہے ہیں
اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کی منتقلی آسان کام نہیں
مقدمات کی منتقلی کی تمام تفصیلات ہائی کورٹ کی ویب سائیٹ پر موجود ہے
جسٹس عدنان اقبال چوہدری کیسز منتقلی کی مانیٹرنگ کررہے ہیں
جن وکلا کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے وہ رابطہ کرتے ہیں
ایسے کوئی مسائل نہیں جو حل نا ہوسکیں


