کراچی ( ایچ آراین ڈبلیو ) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسرائیل مردہ باد میلن مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے ، سیاسی یا معاشی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قیام پاکستان کا واضح موقف ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور کسی کو اس موقف سے روح گردانی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ علمائے کرام نے مجلس اتحاد امت کے پلیٹ فارم سے جو جہاد کا فتویٰ دیا ہے ، ہم سب اس کی تائید کرتے ہیں ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو عالمی عدالت انصاف نے جنگی مجرم قرار دیا ہے ، اس کو پھانسی دی جائے ۔ غزہ کے مسلمانوں کی اخلاقی ، سفارتی اور ہر طرح کی امداد ہم سب پر فرض ہے ۔ ملین مارچ سے جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر سائیں عبدالقیوم ہالیجوی ، جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو ، مرکزی رہنما انجینئر ضیاء الرحمن ، محمد اسلم غوری ، قاری محمد عثمان ، مولانا عبدالکریم عابد ، عبدالرزاق عابد لاکھو ، حاجی عبدالمالک تالپور ، مولانا محمد غیاث ، مولانا سمیع الحق سواتی ، حسین احمد آصفی ، سلیم سندھی ، مولانا نور الحق ، مفتی محمد خالد ، اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا فضل الرحمن کے اسٹیج پر ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا ۔ شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ شرکاء نے اسرائیل مردہ باد اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے ۔ ملین مارچ سے خطاب کے لیے بڑا اسٹیج تیار کیا گیا تھا ۔ جلسہ گاہ میں مولانا فضل الرحمن کو فلسطینی پرچم پہنایا گیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجتماع نے اہل عرب اور غزہ کو حوصلہ دیا ہے ۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں ۔ ہم خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ ہیں ۔ مسلمان حکمران اپنی غیرت کا مظاہرہ کریں اور فلسطینیوں کی مدد کریں ۔ آج ایک ملین کراچی کی عوام آپ کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آپ اپنا فرض پورا کرکے غزہ کی مدد کریں ۔ 60 ہزار سے زائد مردوں ، 55بچوں اور 20 ہزار خواتین کی شہادت ہوئی ہے ۔ لیکن اسلامی ممالک کے حکمران امریکہ کے پٹھو بن چکے ہیں ۔ وہ اسرائیل کی غلامی کر رہے ہیں ۔ آج سب کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنا ہو گا ۔ اسرائیل کوئی ملک نہیں ۔ اس نے فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ 77 سال ہو گئے ہیں ۔ عالمی قوتیں ایک ایسے عمل میں اسرائیل کو حمایت اور تائید دے رہے ہیں ، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ ایک صدی پہلے تک کرہ ارض پر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں تھی ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد اسرائیل کو مسلط کیا گیا ہے ۔ لیگ آف نیشن نے یہاں ان کو بسانے کی تجویز دی تھی ۔ اس میں طے یہ ہوا تھا کہ کسی کو یہاں پر آباد نہیں کیا جائے گا ۔ فلسطینیوں پر اپنی سرزمین بیچنے کا الزام بے بنیاد ہے ۔ برطانیہ نے ایک سازش کے تحت فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرایا ۔برطانیہ کی عادت ہے کہ وہ دنیا میں تنازعات چھوڑ دیتا ہے ۔ برصغیر سے چلا گیا اور کشمیر کا تنازع چھوڑ گیا ۔ یہ عادت اس لیے تاکہ لوگ لڑتے رہیں ۔ جب بہت سی ریاستیں وجود میں آئیں تو برطانیہ نے عرب دنیا میں اسرائیل کا تنازعہ چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور افغانستان میں لوگوں کے شرعی قصاص پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ۔ مگر 60 ہزار سے زائد انسانوں کو شہید ، ایک لاکھ سے زائد زخمی اور لاکھوں کو بے گھر کرنے پر سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ پورے غزہ کو صفہ ہستی سے مٹایا گیا ۔ امریکا کے ہاتھوں سے انسانی خون ٹپک رہا ہے ۔ اسے اب قیادت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشت تبدیل ہو رہی ہے ۔ ایشیا ء کی معیشت پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہاں کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر ان کی نظریں ہیں ۔ انشاء اللہ جلد عالمی معیشت ایشیاء کے ہاتھ میں آئے گی اور امریکا اسی پر پریشان ہے ۔ ہم امریکا کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ عرب دنیا میں مداخلت بند کرے اور مسلمانوں کا خون نہ بہائے ۔ افغانستان امریکا کے لیے ایک سبق ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ امریکا اپنی دفاعی قوت اور اہمیت کھو بیٹھے ۔ آج یہاں پر بیٹھے لاکھوں لوگوں نے فلسطینیوں کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پورے ملک میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کیا ہے ۔ ہمیں اسرائیل کی سازش کو سمجھنا چاہئے ۔ جب قرار داد پاکستان لائی گئی تو قائد اعظم نے اس قرار داد میں اس بات کو حصہ بنایا کہ یہودی ریاست ناقابل تسلیم ہے ۔ اسرائ…


