اسلام آباد میں فیصلے کرنے والوں کو بلوچستان کی سمجھ ہی نہیں، بلوچستان کے وزیر کا بیان

کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) بلوچستان کے وزیر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، بلوچستان کا مسئلہ بیرون دشمنوں کی جانب سے سپانسرڈ ہے، اسلام آباد میں فیصلے کرنے والوں کو بلوچستان کی سمجھ ہی نہیں۔انہوں نے کہاکہ بیرون ممالک کی دشمن ایجنسیاں بلوچستان کے حالات کو جان بوجھ کر خراب کر رہی ہیں، دوسری جانب بلوچستان میں ایک شکایات کی جو لسٹ ہے، اس کو بھی اپنے مفاد کے لیے غلط استعمال کیا گیا ہے، اور اینٹی اسٹیٹ بیانیہ بنایا گیا ہے۔ظہور بلیدی نے کہاکہ جہاں تک بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے کے بات ہے، اس کے لیے فوری حکمت عملی اپنانا پڑے گی، صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت جتنے بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں، سب کو مل کر ایک اسٹریٹیجی بنانی چاہیے، اس وقت ہمارے نوجوانوں کو دوبارہ سے مین اسٹریم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے حوالے سے بلوچستان کی حکومت نے کافی اقدامات کیے بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت یوتھ انگیجمنٹ پروگرام کررہی ہے، اور اس کے علاوہ ہمارا ایک 10 سالہ ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جس کے تحت بلوچستان کی محرومیوں پر سرمایہ کاری کریں گے، تاکہ بلوچستان بھی باقی صوبوں کے برابر آ جائے، اور اس میں حکومت کو کامیابی ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس چیز پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو اپنے بیانیے پر لایا جائے، اس کے علاوہ لوگوں میں اس نظام کے حوالے سے امید پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اس پر پاکستان پیپلز پارٹی اور ہماری حکومت اتحاد کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو حالات کی بہتری اور ڈیولپمنٹ اقدامات کے ذریعے قائل کیا جا سکے کہ وہ اسپانسرڈ دہشتگردی کی طرف نہ جائیں، اس کے درمیان دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ظہور بلیدی نے کہاکہ بلوچستان کی روٹ کازز کو ٹھیک کرنا چاہیے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ بلوچستان کو وفاق کی جانب سے نظرانداز کیا گیا، پاکستان کے 11 فیصد غریب بلوچستان میں ہیں، جبکہ بلوچستان کی آبادی 6 فیصد ہے۔ ہماری پالیسیاں جو اسلام آباد میں یا پھر کوئٹہ میں بنتی رہیں، ان میں بڑے نقص تھے، کیونکہ زمین حقائق کچھ اور تھے۔ ہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں جب بات پہنچ جاتی ہے تو اس میں ایک بڑا فرق ہے، جیسا کہ تربت کے مسائل سے متعلق جب اسلام آباد میں بات کی جائے گی تو وہ نظریہ بھی درمیان میں آ جاتا ہے، اس کا ایک ریسرچ بیسڈ حل نکالنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں